انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 461

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور پہلوا بھی اتنا کمزور نہیں ہوا۔اور اب اگر اس سال یعنی ۱۹۴۳ ء میں جرمنی کی طاقت نہ ٹوٹی تو اگلا سال روس کے لئے سخت مشکلات کا ہوگا۔پچھلے سال روسی جہاں تک جرمنوں کو دھکیل کر لے گئے تھے اگر وہاں تک لے گئے تو اس کے معنے یہ ہونگے کہ جرمنی کا زور ٹوٹ گیا ورنہ نہیں۔اور اگر روس کی طاقت ٹوٹ گئی تو سب سے زیادہ خطرہ ہندوستان کے لئے ہوگا کیونکہ پھر ہندوستان اور دشمن کے درمیان کوئی بھی روک نہ ہوگی۔پھر یہ بھی سوچنا چاہئے کہ روس کی آبادی زیادہ ہے اور گو ہندوستان کی آبادی اُس سے بہت زیادہ ہے مگر اس میں کئی کروڑ لوگ ایسے ہیں جو غیر جنگی ہیں اس کے علاوہ یہاں کا ایک معتدل طبقہ ایسا ہے جو جاپان سے ہمدردی رکھتا ہے یہ حصہ بھی جرمنی سے لڑنے والا نہیں اِن دونوں کو اگر علیحدہ کر دیا جائے تو ہندوستان کی ایسی آبادی جو جرمنی سے مقابلہ کرنے میں انگریزوں کا ساتھ دے سکتی ہے ۹۸ کروڑ رہ جاتی ہے لیکن اس کے مقابلہ میں جرمنی کی آبادی آٹھ کروڑ ہے ، اٹلی کی چار کروڑ سے زیادہ ہے، رومانیہ کی تین کروڑ ، ہنگری کی تمیں لاکھ اور پولینڈ کی چالیس لاکھ ہے اور یہ سب مل کر سترہ اٹھارہ کروڑ آبادی بن جاتی ہے اور اس طرح جرمنی کی طاقت آبادی کی تعداد کے لحاظ سے بھی بہت زیادہ ہے۔پھر جاپان کی طاقت اس سے علاوہ ہے۔بے شک بعض حالات انگریزوں کی تائید میں ظاہر ہوئے ہیں مثلاً شمالی افریقہ میں انہیں فتح ہوئی ہے۔یہ پہلی لڑائی ہے جس میں جرمن میدان سے بھاگے ہیں اور لیبیا کی لڑائی بالکل اُسی طرح ہوئی ہے جس طرح مجھے رویا میں دکھایا گیا تھا اور جرمنوں کے اس طرح بھاگنے سے ان کی برتری کا رُعب بھی کم ہو گیا ہے ادھر روس نے ثابت کر دیا ہے کہ جرمنی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔پہلے جو جر من سپاہی کو ہوا سمجھا جاتا تھا یہ رُعب اب مٹ چکا ہے جرمنی کا ایک اور رُعب سامان کا تھا۔ہٹلر نے کئی بار کہا تھا کہ بعض مخفی ایجادیں ان کے پاس ہیں مگر یہ رُعب بھی جاتا رہا ہے اور ظاہر ہو گیا ہے کہ مخفی ایجادوں کا پروپیگنڈا بالکل غلط تھا۔اگر کوئی ایسی ایجاد ہوتی تو ان خطر ناک حالات میں ضرور باہر آ جاتی یہ ظاہر ہو چکا ہے کہ جرمنوں کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں کہ جس کے مقابلہ کی کوئی چیز اتحادیوں کے پاس نہ ہو۔اگر اس نے کوئی ایجاد کی ہے تو برطانیہ نے بھی اس کے مقابلہ پر کوئی نہ کوئی ایجاد کر لی ہے۔اور امریکہ نے بھی کر لی ہے کسی نے اچھی قسم کا کوئی ٹینک بنالیا، کسی نے اچھا طیارہ بنالیا اور کسی نے ڈسٹرائر تیار کر لیا بہر حال اب یہ اطمینان ہو چکا ہے کہ جرمنی کے پاس کوئی ایسی ایجاد نہیں کہ جس سے یکدم جنگ کا نقشہ بدل سکتا ہو۔پھر اس کے علاوہ فرانس میں بھی جرمنی کی مخالفت کا جذبہ روز بروز زیادہ ہو رہا ہے۔اتحادیوں کو