انوارالعلوم (جلد 16)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 462 of 641

انوارالعلوم (جلد 16) — Page 462

انوار العلوم جلد ۱۶ بعض اہم اور ضروری امور سامان تیار کرنے کا کافی موقع مل چکا ہے پہلے ان کے پاس اتنا سامان نہیں تھا جتنا اب بن چکا ہے اور روز بروز اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔پہلے ہندوستانی فوج صرف ایک لاکھ ساٹھ ہزار تھی مگر اب دس لاکھ سے بھی بڑھ چکی ہے۔ایک اور بات بھی قابل ذکر ہے پہلے یہ عام طور پر خیال کیا جاتا تھا کہ اگر بر ما انگریزوں کے ہاتھ سے جاتا رہا تو چینی ضرور جاپانیوں سے دب جائیں گے ان کے پاس سامان جنگ بالکل نہیں ہے اندر ہی اندر یہ خیال بہت پایا جاتا تھا مگر چینیوں نے بھی وہ موقع گزار لیا ہے اور اب ان کے لئے ویسا خطرہ نہیں رہا کہ وہ یکدم ہتھیار ڈال دیں گے چین برا بر اپنے کام میں لگا ہوا ہے۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ جنگ میں مدد کس جنگ میں اتحادیوں کی امداد کے طریق طرح کی جاسکتی ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے بھرتی میں مدد دی جائے۔پھر جو لوگ مالی امداد دے سکتے ہیں وہ مالی امداد دے دیں۔تیسری بات یہ ہے کہ غلط افواہوں کو روکنا چاہئے میں نے پچھلے سال بھی بتایا تھا کہ افواہوں کو پھیلنے سے روکنا بہت بڑی خدمت ہے دراصل دشمن کی فوج اور سامان اتنا نقصان نہیں پہنچا سکتا جتنا افواہیں پہنچاتی ہیں غلط افواہیں بہت پھیلتی رہتی ہیں۔اب کلکتہ پر بمباری ہوتی ہے اور کچھ بم رگرے ہیں لیکن اس کے متعلق ہی کئی قسم کی افواہیں پھیل رہی ہیں کسی گاؤں میں جاؤ تو طرح طرح کی باتیں سننے میں آئیں گی اور اس بمباری کی تفاصیل تک وہاں سنو گے اتنے مکانات اُڑ گئے ، اتنے آدمی مارے گئے ، یہ نقصان ہوا ، وہ نقصان ہوا وغیرہ وغیرہ یہ ایسی باتیں ہیں جن سے کمزوری پیدا ہوتی ہے خصوصاً دیہات میں ایسی افواہیں بہت پھیلتی ہیں جنہیں روکنا بہت ضروری ہے زمیندار ناول تو نہیں پڑھتا مگر وہ ناول بنانے میں ماہر ہوتا ہے اور ایسی باتیں اپنے دماغ سے ہی گھڑتا رہتا ہے۔اس کے بعد میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سلسلہ کی روحانی بقاء کے لئے خدام الاحمدیہ، انصار الله میں نے خدام الاحمدیہ، انصاراللہ اور لجنہ اماء اللہ کی تحریکات جاری کی ہوئی ہیں اور یہ تینوں نہایت ضروری ہیں عورتوں میں اور لجنہ اماءاللہ کی تحریکات گل جو تقریر میں نے کی اُس میں ان کو نصیحت کی ہے کہ وہ لجنات کی ممبر بنانے میں مستعدی سے کام لیں اور آج آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ ان تحریکات کو معمولی نہ سمجھیں اس زمانہ میں ایسے حالات پیدا ہو چکے ہیں کہ یہ بہت ضروری ہیں، پرانے زمانہ میں اور