انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 419

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده کرنے کی کیا ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنا دین اُتارا اور ہم نے اسے مان لیا اب اسے اس امر میں دخل دینے کا کوئی حق نہیں کہ ہم اپنے لئے کونسا نظام تجویز کرتے ہیں یہ ہر زمانہ میں مسلمانوں کی مرضی پر منحصر ہے وہ جس طرح چاہیں اس کا فیصلہ کر لیں۔اگر مناسب سمجھیں تو ایک خود مختار بادشاہ پر متفق ہو جائیں، چاہیں تو جمہوریت کو پسند کر لیں ، چاہیں تو بولشو یک اصول کو قبول کر لیں اور چاہیں تو آئینی بادشاہت کے طریق کو اختیار کر لیں کسی ایک اصل کو مذہب کے نام پر رائج کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ مفید ہو سکتا ہے اصل غرض تو دین کو پھیلانا ہے۔بھلا اس میں پڑنے کی ضرورت کیا ہے کہ وہ نظام کیسا ہو جس کے ماتحت کام کیا جائے۔موجودہ زمانہ میں ئو تعلیم یافتہ مغرب زدہ نو جوانوں نے اس بحث کو اُٹھایا ہے اور درحقیقت اس کے پیچھے وہ غلط حریت کی روح کام کر رہی ہے جو مختلف خیالات فلاسفہ سے متاثر ہو کر مسلمانوں میں موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ہے۔وہ اس سوال کو بار بار اٹھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس رنگ میں مذہب بد نام ہوتا اور کو تعلیم یافتہ طبقہ مذہب سے بدظن ہوتا ہے۔بہتر یہی ہے کہ مذہب کو اپنی جگہ پر رہنے دو اور سیاست کو اپنی جگہ۔مغربی اثر کے ماتحت خیالات کی یہ رومدت سے چل رہی تھی مگر مسلمانوں میں سے کسی کو جرات نہیں ہوتی تھی کہ علی الاعلان اس کا اظہار کرے۔جب تحر کی خلافت تباہ ہوئی اور کمال اتاترک نے خلافت کو منسوخ کر دیا تو عالم اسلامی میں ایک بہیجان پیدا ہو گیا اور پرانے خیالات کے جو لوگ تھے انہوں نے خلافت کمیٹیاں بنائیں۔ہندوستان میں بھی کئی خلافت کمیٹیاں بنیں اور لوگوں نے کہا کہ ہم اس رو کا مقابلہ کریں گے مگر وہ لوگ جن کے دلوں میں یہ شبہات پیدا ہو چکے تھے کہ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے انہوں نے جب دیکھا کہ مسلمانوں کا ایک فاتح بادشاہ جس کی لوگوں کے دلوں میں بہت بڑی عزت ہے اُس نے اپنے عمل سے اُن کے خیالات کی تائید کر دی ہے تو وہ اور زیادہ دلیر ہو گئے اور اُن میں سے بعض نے اس کے متعلق رسائل لکھے۔اس قسم کے رسائل مسلمانوں نے بھی لکھے ہیں، یورپین لوگوں نے بھی لکھے ہیں اور بعض روسیوں نے بھی لکھے ہیں مگر اس خیال کو ایک مدلل صورت میں ایک مصری عالم علی بن عبد الرزاق نے جو جامعہ ازہر کے علماء میں سے ہیں اور محاکم شریعہ کے قاضی ہیں اپنی کتاب "الإسلامُ وَ أَصُول الحكم“ میں پیش کیا ہے اور اس کا محرک جیسا کہ میں بتا چکا ہوں وہ شدید اضطراب ہوا جو تر کی خلافت کی منسوخی سے عالم اسلامی میں عموماً اور عربی ممالک میں خصوصاً پیدا ہوا تھا۔