انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 418

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده مخالفین سلسلہ کی طرف سے اس وقت ہمارے سلسلہ کے خلاف دشمنوں کی طرف سے جو منصوبے کئے جا رہے ہیں اور جن جن تدابیر خلافت کی تنقیص کی کوشش سے وہ احمدیت کے وقار کو ضعف پہنچانا چاہتے ہیں اُن میں سے ایک منصوبہ اور تدبیر یہ ہے کہ ان کی طرف سے متواتر خلافت کی تنقیص کی کوشش کی جاتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اگر کسی کے دل میں شیطان کو زندہ کیا جا سکے تو اس کے دل میں شیطان کو زندہ کر دیں۔اسی وجہ سے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اب کی دفعہ میں خلافت کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کروں تا کہ جو لوگ فائدہ اُٹھانا چاہیں اس سے فائدہ اُٹھا سکیں اور دین سے محبت رکھنے والوں کیلئے یہ تعلیم برکت اور راہنمائی کا موجب ہو جائے۔خلافت کا مسئلہ میرے نزدیک اسلام کے اہم ترین خلافت کا مسئلہ اسلام کے اہم مسائل میں سے ہے بلکہ میں سمجھتاہوں اگر کمہ شریفہ ترین مسائل میں سے ہے کی تفسیر کی جائے تو اس تفسیر میں اس مسئلہ کا مقام سب سے بلند درجہ پر ہو گا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کلمہ طیبہ اسلام کی اساس ہے مگر یہ کلمہ اپنے اندر جو تفصیلات رکھتا ہے اور جن امور کی طرف یہ اشارہ کرتا ہے اُن میں سے سب سے بڑا امر مسئلہ خلافت ہی ہے۔پس میں نے چاہا کہ اس مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات جماعت کے سامنے واضح طور پر پیش کر دوں تا کہ مخالفین پر حجت تمام ہو اور لْيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيِّنَةٍ ويخيى من حي عن بتنة کا نظارہ نظر آ جائے۔یعنی جو شخص دلیل سے گھائل ہونے والا ہو اس کے سامنے دلیل کو کھول کر بیان کر دیا جائے اور جس کا ایمان بصیرت پر مبنی ہو اس کے ہاتھ میں ایسی بین دلیل آ جائے جس سے اس کا ایمان تازہ ہو جائے۔اُمّتِ مسلمہ کا نظام کسی مذہبی مسئلہ سب سے پہلے میں اس سوال کو لیتا ہوں جو مغربی تعلیم کے اثر کے نیچے اُٹھایا جاتا ہے کے ساتھ وابستہ کرنیکی ضرورت اور وہی ایک اصولی سوال ہے جس پر اس مسئلہ کا انحصار ہے اور وہ یہ ہے کہ نظام بہر حال ایک دُنیوی چیز ہے اور جب کہ نظام ایک دُنیوی چیز ہے دینی چیز نہیں تو امت مسلمہ کے نظام کو کسی مذہبی مسئلہ کے ساتھ وابستہ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ایک سیاسی مسئلہ ہے اور مذہب کا اس سے کوئی تعلق نہیں پھر اس پر مذہبی نقطہ نگاہ سے غور