انوارالعلوم (جلد 15) — Page 420
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده شاید کہا جائے کہ اس بحث کا اس خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے ایک سوال کا جواب جو اصل بحث میرے مضمون کا ہوسکتا ہے کیونکہ وہ خلافت جو اس کتاب میں زیر بحث ہے خلافت سلطنت ہے اور احمد یہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے ترک بادشاہ ہیں اور احمدی بادشاہ نہیں۔پس ترکوں کی خلافت کی تائید میں جو دلائل ہو نگے وہ اور رنگ کے ہونگے اور ان کی خلافت کی تردید میں جو دلائل ہو نگے وہ بھی اور رنگ کے ہو نگے۔بھلا اس خلافت کا خلافتِ احمدیہ سے کیا تعلق ہے جسے کسی قسم کی بادشاہت حاصل نہیں اور جس کی خلافت محض مذہبی رنگ رکھتی ہے۔اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جس مسئلہ پر بحث کی جاتی ہے ضروری نہیں ہوتا کہ اُس کے صرف اُس پہلو پر روشنی ڈالی جائے جس کے متعلق کوئی سوال کرے بلکہ بسا اوقات اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی جاتی ہے اور یہ کوئی قابلِ اعتراض امر نہیں ہوتا۔مثلاً ہم سے کوئی پوچھے کہ وضو میں ہاتھ کس طرح دھوئے جاتے ہیں تو اس کے جواب میں اگر ہم وضو کی تمام تفصیل اس کو بتا دیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہوگا کیونکہ وہ باقی باتیں بھی سمجھ جائے گا۔اسی طرح گواحمد یہ جماعت کو جس خلافت سے تعلق ہے وہ مذہبی خلافت ہے لیکن اگر خلافت سلطنت کے متعلق بھی بحث کر دی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہوگا بلکہ اس مضمون کی تکمیل کیلئے ایسا کرنا ضروری ہوگا۔سیاست صرف حکومت کے ساتھ وابستہ نہیں ہوتی دوسرا جواب یہ ہے که در حقیقت سیاست نظام کا دوسرا نام ہے اور یہ سیاست حکومت کے ساتھ بھی تعلق رکھتی ہے اور حکومت کے بغیر بھی سیاست ہوتی ہے۔یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ انہوں نے سمجھ لیا ہے کہ سیاست صرف حکومت کے ساتھ ہی وابستہ ہوتی ہے حالانکہ بغیر حکومت کے بھی سیاست ہوتی ہے اور بغیر حکومت کے بھی نظام کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تین شخص اکٹھے کہیں سفر پر جانے لگیں تو وہ اپنے میں سے ایک شخص کو امیر بنالیں سے تا کہ نماز کے وقت اسے امام بنایا جا سکے اور سفر میں جو جو ضرورتیں پیش آئیں اُن کے بارہ میں اس سے مشورہ لیا جا سکے۔اب یہ ایک نظام ہے مگر اس کا تعلق حکومت سے نہیں۔نظام در حقیقت ایک مستقل چیز ہے اگر حکومت شامل ہو تو اس پر بھی حاوی ہوتا ہے اور اگر نہ ہو تو باقی لوگوں کے لئے اُس کی پابندی