انوارالعلوم (جلد 15) — Page 545
انوار العلوم جلد ۱۵ صلى الله خلافت راشده یہ فرماتے سنا کہ میرے بعد خلافت صرف تمہیں سال ہو گی اس کے بعد ملوکیت قائم ہو جائے گی۔اور چاروں خلفاء کی مدت صرف تمھیں سال ہی بنتی ہے۔پس جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خلافت کو چاروں خلفاء تک لمبا کرتے ہیں تو کسی دوسرے کا کیا حق ہے کہ اسے پہلے خلیفہ تک محدود کر دے۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس خیال کو ”سر الخلافہ“ میں بیان فرمایا ہے مگر یہ درست نہیں۔آپ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ شیعوں کے رڈ میں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ رسول کریم علیہ کے اصل جانشین حضرت علی تھے آپ اس کے جواب میں فرماتے ہیں کہ خلافت کا وعدہ قرآن کریم کی آیت وحد الله الذینَ آمَنُوا مِنْكُمْ میں ہے اور اس میں جو شرائط پائی جاتی ہیں وہ بدرجہ کمال حضرت ابو بکر میں پائی جاتی ہیں۔پس آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ قرآن کریم سے حضرت ابو بکر کی خلافت حضرت علی کی خلافت سے زیادہ ثابت ہے نہ یہ کہ حضرت علی خلیفہ نہ تھے۔آپ نے اپنی کتب میں چار خلفاء کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں اسے اور حضرت علی کی خلافت کا بھی ذکر فرمایا ہے کے اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے شیعوں کے رڈ میں ایک لیکچر دیا تھا جس میں انہوں نے اسی آیت سے حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان کو خلیفہ ثابت کیا ہے اور حضرت علیؓ کی خلافت کو بھی مختلف مقامات میں تسلیم کیا ہے۔آپ نے بعد میں اس لیکچر کو بعض زوائد کے ساتھ کتابی صورت میں خلافتِ راشدہ کے نام سے چھپوا دیا تھا۔اس کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ میرا یہ مضمون حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنا اور بار بار پڑھوایا اور اس کے کچھ حصہ کا ترجمہ اپنی کتاب حجتہ اللہ میں بھی کر دیا اور مختلف مقامات پر میرا یہ مضمون دوستوں کو اپنی طرف سے بطور تحفہ بھجوایا۔پس معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس عقیدہ میں حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سے متفق تھے جس کا انہوں نے ” خلافتِ راشدہ میں اظہار کیا ہے۔دوسرا جواب اس کا یہ ہے کہ پہلے خلیفہ کی خلافت ثابت ہو جائے تو دوسروں کی خود بخود ثابت ہو جاتی ہے۔جیسے حضرت ابو بکر پہلے خلیفہ ہوئے اور پھر حضرت ابو بکر نے حضرت عمرؓ کا انتخاب کیا اور مسلمانوں سے مشورہ کر کے انھیں خلیفہ مقرر کیا۔اسی طرح اس زمانہ میں حضرت خلیفہ اول نے ایک دفعہ تو میرا نام لے کر وصیت کی اور دوسری دفعہ بغیر نام کے وصیت کی