انوارالعلوم (جلد 15) — Page 544
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده رکھے تا کہ انتخاب کے وقت اُن سے کوئی بیوقوفی سرزد نہ ہو جائے۔پس اسلام ہی وہ مذہب ہے جس نے لوگوں کے علمی نشو ونما کو مد نظر رکھتے ہوئے حکام کے انتخاب کا حکم دیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء کی خلافت خواہ وہ خلافت نبوت ہو یا خلافت ملوکیت ناقص تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم چونکہ صحیح معنوں میں کامل نبی تھے اس لئے آپ کے بعد جو نبی آیا یا آئیں گے وہ آپ کے تابع ہی نہ ہونگے بلکہ آپ کے فیض سے نبوت پانے والے ہونگے۔اسی طرح چونکہ آپ کی قوم صحیح معنوں میں کامل اُمت تھی جیسا کہ فرمایا۔كُنْتُمْ خَيْرٌ أُمَّةٍ أخرجت للناس ٨ اس لئے ضروری تھا کہ اُن کے کام کو چلانے والے بھی اُسی رنگ میں آئیں جس طرح اس اُمت میں نبی آنے تھے یعنی اُن کے انتخاب میں قوم کو دخل ہو۔پس اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ وہ ملو کی خلیفہ نہ ہوں جن کے انتخاب میں قوم کو دخل نہ ہوتا تھا بلکہ انتخابی خلیفہ ہوں تا کہ اُمتِ محمدیہ کی پوری ترجمانی کرنے والے ہوں اور اُمت کی قوت کا صحیح نشو ونما ہو۔چنانچہ اس حکم کی وجہ سے ہر خلیفہ اس بات پر مجبور ہے کہ وہ لوگوں میں زیادہ سے زیادہ علم اور سمجھ کا مادہ پیدا کرے تاکہ وہ اگلے انتخاب میں کوئی غلطی نہ کر جائیں۔پس یہ فرق اس وجہ سے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سید الانبیاء ہیں اور آپ کی اُمت خیر الامم ہے۔جس طرح سید الانبیاء کے تابع نبی آپ کے فیضان سے نبوت پاتے ہیں اسی طرح خَيْرُ الْاُمَم کے خلفاء قوم کی آواز سے خلیفہ مقرر ہوتے ہیں۔پس یہ نظام اسلام کی برتری اور نبی اسلام اور امت اسلامیہ کے علو مرتبت کی وجہ سے ہے اور اس سے خلافتِ فردی کو مٹایا نہیں گیا بلکہ خلافت شخصی کو زیادہ بہتر اور مکمل صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ان اصولی سوالوں کے بعد میں ایک دو ضمنی اعتراضوں کو لے لیتا ہوں۔کیا خلافت موعودہ محض اُس خلیفہ کے (۱) ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ خلافت موعودہ جس کا اس آیت میں متعلق ہے جو نبی کے معاً بعد آتا ہے؟ ذکر ہے محض اُس خلیفہ کے متعلق ہے الله ہے جو نبی کے معابعد آتا ہے نہ کہ خلفاء کے ایک لمبے سلسلہ کے متعلق۔اس کا جواب یہ ہے۔(۱) رسول کریم ﷺ نے خود چاروں خلافتوں کو خلافتِ راشدہ قرار دیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔عَنْ سَفِيْنَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ الْخِلَافَةُ ثَلَاثُوْنَ سَنَةً ثُمَّ تَكُونُ مُلكا - 19 یعنی حضرت سفینہ کہتے ہیں میں نے رسول کریم ﷺ کو