انوارالعلوم (جلد 15) — Page 546
انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده مگر بہر حال خلافت کے وجود کو آپ نے قائم کیا۔آپ کی وصیت کے الفاظ یہ ہیں:۔خاکسار بقائمی حواس لکھتا ہے لا اله إلا الله مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله میرا جانشین متقی ہو، ہر دلعزیز عالم باعمل۔حضرت صاحب کے پرانے اور نئے احباب سے سلوک چشم پوشی و درگزر کو کام میں لاوے۔میں سب کا خیر خواہ تھا وہ بھی خیر خواہ رہے قرآن وحدیث کا درس جاری رہے۔والسلام نورالدین ۴ / مارچ ۷۴ اسی طرح آپ ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی خدا تعالیٰ نے خلیفہ مقرر کیا ہے اور میرے بعد جو ہو گا اسے بھی خدا ہی خلیفہ مقرر کرے گا۔چنانچہ آپ نے فرمایا:۔خلافت کیسری کی دُکان کا سوڈا واٹر نہیں۔تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اُٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مرجاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہو گا جس کو خدا چاہے گا اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا۔‘۵۰ کے پس اگر پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت خلیفہ تھے تو ان کے فیصلے اسی کی تائید میں ہیں کہ ان کے بعد بھی خلافت رہے گی اور اسی رنگ میں ہوگی جس رنگ میں ان کی اپنی خلافت تھی اور ان کے فیصلے اس بارہ میں حجت ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارتضى لَهُمْ - تیسرا جواب یہ ہے کہ جب موجبات موجود ہوں تو پھر ان کا طبعی نتیجہ کیوں نہ ہوگا یا تو یہ مانا جائے گا کہ ضرورت خلافت بعد میں نہ رہی اور اُمت بھی مؤمنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی نہ رہی اور یا پھر خلافت کے وجود کو تسلیم کرنا ہوگا۔کیا خلیفہ کا عزل جائز ہے؟ ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جب خلیفہ انتخاب سے ہوتا ہے تو پھر امت کیلئے اس کا عزل بھی جائز ہوا اس کا جواب یہ ہے کہ گو خلیفہ کا تقرر انتخاب کے ذریعہ سے ہوتا ہے لیکن آیت کی نص صریح اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ امت کو اپنے فیصلہ کا اس امر میں ذریعہ بناتا ہے اور اس کے دماغ کو خاص طور پر روشنی بخشتا ہے لیکن مقر راصل میں اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے