انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 501 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 501

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده اس آیت کے آخر میں وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُون ليه کر اس کے وعدہ ہونے پر پھر زور دیا اور وکئِن كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدُ ٢٦ کے وعید کی طرف توجہ دلائی کہ ہم جو انعامات تم پر نازل کرنے لگے ہیں اگر تم ان کی ناقدری کرو گے تو ہم تمہیں سخت سزا دیں گے۔خلافت بھی چونکہ ہمارا ایک انعام ہے اس لئے یا درکھو جو لوگ اس نعمت کی ناشکری کریں گے وہ فاسق ہو جائیں گے۔یہ آیت ایک زبردست شہادت خلافتِ راشدہ پر ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور احسان مسلمانوں میں خلافت کا طریق قائم کیا جائے گا جو مُؤَيَّد مِنَ اللہ ہوگا۔( جیسا کہ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ ليَسْتَخْلِفَتَهُمْ في الْأَرْضِ اور وليمكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ سے ظاہر ہے ) اور مسلمانوں کو پہلی قوموں کے انعامات میں سے وافر حصہ دلانے والا ہوگا۔اس آیت میں خلفاء کی علامات بھی بتائی گئی ہیں جن سے سچے بچے خلفاء کی علامات اس آیت میں اور جھوٹے میں فرق کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہیں :- (۱) خلیفہ خدا بناتا ہے۔یعنی اس کے بنانے میں انسانی ہاتھ نہیں ہوتا ، نہ وہ خود خواہش کرتا ہے اور نہ کسی منصوبہ کے ذریعہ وہ خلیفہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ تو ایسے حالات میں ہوتا ہے جب کہ اُس کا خلیفہ ہونا بظاہر ناممکن سمجھا جاتا ہے۔چنانچہ یہ الفاظ کہ وقدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمُ وَعَمِلُوا الصلحت خود ظاہر کرتے ہیں کہ خلیفہ خدا ہی بناتا ہے کیونکہ جو وعدہ کرتا ہے وہی دیتا ہے۔بعض لوگ غلطی سے یہ کہتے ہیں کہ اس وعدے کا یہ مطلب ہے کہ لوگ جس کو چاہیں خلیفہ بنالیں ، خدا اُس کو اپنا انتخاب قرار دے دے گا۔مگر یہ ایسی ہی بات ہے جیسے ہمارے ایک استاد کا یہ طریق ہوا کرتا تھا کہ جب وہ مدرسہ میں آتا اور کسی لڑکے سے خوش ہوتا تو کہتا کہ اچھا تمہاری جیب میں جو پیسہ ہے وہ میں نے تمہیں انعام میں دے دیا۔یہ بھی ویسا ہی وعدہ بن جاتا ہے کہ اچھا تم کسی کو خود ہی خلیفہ بنا لو اور پھر یہ سمجھ لو کہ اُسے میں نے بنایا ہے۔اور اگر یہی بات ہو تو پھر انعام کیا ہوا اور ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والی جماعت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محبت کا امتیازی سلوک کونسا ہوا ؟ وعدہ تو جو کرتا ہے وہی اسے پورا بھی کیا کرتا ہے نہ یہ کہ وعدہ تو وہ کرے اور اسے پورا کوئی اور کرے۔پس اس آیت میں پہلی بات یہ بتائی گئی ہے کہ خلفاء کی آمد خدا تعالیٰ کی طرف سے ہوگی۔ظاہری لحاظ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کیونکہ کوئی شخص خلافت کی