انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 500 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 500

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده فرماتا ہے کہ تمہاری نمازیں بھی جاتی رہیں گی، تمہاری زکوتیں بھی جاتی رہیں گی ، اور تمہارے دل سے اطاعت رسول کا مادہ بھی جاتا رہے گا۔ہماری جماعت کو چونکہ ایک نظام کے ماتحت رہنے کی عادت ہے اور اس کے افراد اطاعت کا مادہ اپنے اندر رکھتے ہیں اس لئے اگر ہماری جماعت کے افراد کو آج اُٹھا کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں رکھ دیا جائے تو وہ اسی طرح اطاعت کرنے لگ جائیں جس طرح صحابہ اطاعت کیا کرتے تھے لیکن اگر کسی غیر احمدی کو اپنی بصیرت کی آنکھ سے تم اس زمانہ میں لے جاؤ تو تمہیں قدم قدم پر وہ ٹھوکریں کھا تا دکھائی دے گا اور وہ کہے گا کہ ذرا ٹھہر جائیں مجھے فلاں حکم کی سمجھ نہیں آئی بلکہ جس طرح ایک پٹھان کے متعلق مشہور ہے کہ اس نے کہہ دیا تھا خو محمد صاحب کا نماز ٹوٹ گیا۔قدوری میں لکھا ہے کہ حرکت صغیرہ سے نماز ٹوٹ جاتا ہے۔اسی طرح وہ بعض باتوں کا انکار کرنے لگ جائے گا۔لیکن اگر ایک احمدی کو لے جاؤ تو اس کو پتہ بھی نہیں لگے گا کہ وہ کسی غیر مانوس جگہ میں آ گیا ہے بلکہ جس طرح مشین کا پُرزہ فوراً اپنی جگہ پر فٹ آ جاتا ہے، اسی طرح وہ وہاں پر فٹ آ جائے گا اور جاتے ہی محمد رسول اللہ ﷺ کا صحابی بن جائے گا۔غرض یہ آیت جو آیت استخلاف آیت استخلاف کے مضامین کا خلاصہ کہلاتی ہے اس کے مفہوم کا خلاصہ یہ ہے کہ : - (1) جس بات کا ذکر کیا گیا ہے، وہ ایک وعدہ ہے۔(۲) وعدہ اُمت سے ہے جب تک وہ ایمان و عمل صالح پر کار بندر ہے۔غیر مبائع ہمیشہ اس بات پر زور دیا کرتے ہیں کہ ان آیات میں خلافت کا جو وعدہ کیا گیا ہے وہ افراد سے نہیں بلکہ امت سے ہے اور میں نے ان کی یہ بات مان لی ہے۔میں بھی یہی کہتا ہوں کہ یہ وعدہ اُمت سے ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ جب تک وہ ایمان اور عمل صالح پر کار بند رہے گی اس کا یہ وعدہ پورا ہوتا رہے گا۔(۳) اس وعدہ کی غرض یہ ہے کہ (الف) مسلمان بھی وہی انعام پائیں جو پہلی قوموں نے پائے کیونکہ فرماتا ہے كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قَبْراهیم (ب) اس وعدہ کی دوسری غرض تمکین دین ہے۔(ج) اس کی تیسری غرض مسلمانوں کے خوف کو امن سے بدل دینا ہے۔( د ) اس کی چوتھی غرض شرک کا دور کرنا اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کا قیام ہے۔