انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 502

انوار العلوم جلد ۱۵ خلافت راشده خواہش کر کے خلیفہ نہیں بن سکتا اسی طرح کسی منصوبہ کے ماتحت بھی کو ئی خلیفہ نہیں بن سکتا۔خلیفہ وہی ہو گا جسے خدا بنانا چاہے گا بلکہ بسا اوقات وہ ایسے حالات میں خلیفہ ہو گا جب کہ دنیا اس کے خلیفہ ہونے کو نا ممکن خیال کرتی ہوگی۔مشابهه (۲) دوسری علامت اللہ تعالیٰ نے بچے خلیفہ کی یہ بتائی ہے کہ وہ اس کی مدد انبیاء کے ہہ کرتا ہے۔کیونکہ فرمایا كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِن قبراهیم کہ یہ خلفاء ہماری نصرت کے ویسے ہی مستحق ہونگے جیسے پہلے خلفاء۔اور جب پہلی خلافتوں کو دیکھا جاتا ہے تو وہ دو قسم کی نظر آتی ہیں۔اول خلافت نبوت۔جیسے آدم علیہ السلام کی خلافت تھی جس کے بارہ میں فرمایا کہ إنِّي جَاعِلُ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةٌ " میں زمین میں اپنا ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔اب آدم علیہ السلام کا انتخاب نہیں کیا گیا تھا اور نہ وہ دُنیوی بادشاہ تھے۔اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے ایک ۴۸ وعدہ کیا اور انہیں اپنی طرف سے زمین میں آپ کھڑا کیا اور جنہوں نے انکار کیا انہیں سزا دی۔جیسے داؤد علیہ السلام کے متعلق فرمایا کہ داؤد اِنَّا جَعَلْنَكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُمْ بَينَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلا تَتَّبِعِ الهَوى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ان الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدَ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الحساب اے داؤد ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ( حضرت داؤد علیہ السلام چونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی تھے اس لئے معلوم ہوا کہ یہاں خلافت سے مراد خلافتِ نبوت ہی ہے ) پس تو لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے فیصلہ کر۔اور لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کر۔ایسا نہ ہو کہ وہ تجھے سیدھے راستہ سے منحرف کر دیں۔یقیناً وہ لوگ جو گمراہ ہیں انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب ہوگا اس لئے ایسے لوگوں کے مشوروں کو قبول نہ کیا کر بلکہ وہی کر جس کی طرف خدا تیری راہنمائی کرے۔ان آیات میں دراصل وہی مضمون بیان ہوا ہے جو دوسری جگہ فإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى الله ۴۹ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔بعض لوگوں نے غلطی سے لا تَتَّبِمِ الهَوى فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ کے معنی کئے ہیں کہ اے داؤد ! لوگوں کی ہوا و ہوس کے پیچھے نہ چلنا حالانکہ اس آیت کے یہ معنی ہی نہیں بلکہ اس میں اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ بعض دفعہ لوگوں کی اکثریت تجھے ایک بات کا مشورہ دے گی اور کہے گی کہ یوں کرنا چاہئے مگر فرمایا تمہارا کام یہ ہے کہ تم محض اکثریت کو نہ دیکھو بلکہ یہ دیکھو کہ جو بات تمہارے سامنے پیش کی جارہی ہے وہ مفید ہے یا نہیں۔اگر مفید ہو تو