انوارالعلوم (جلد 15) — Page 72
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی من العلمین۔یاد کرو جب موسی نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم! خدا تعالیٰ کی اس نعمت کو یاد کرو جب اس نے تم پر کی کہ اس نے تم میں سے نبی بنائے اور پھر تمہیں بادشاہت بھی دی اور پھر تمہیں وہ تعلیم دی جو پہلے تمہیں معلوم نہ تھی اس سے معلوم ہوا کہ نعمت سے مراد اجرائے نبوت بادشاہت اور دوسرے مذاہب سے افضل تعلیم ہے کیونکہ جَعَلَ فِيكُمْ أَنْبِيَاء سے اجرائے نبوت کا ثبوت ملتا ہے۔جَعَلَكُمْ مُلُوا سے بادشاہت کا اور واشكم ما لم يُوتِ احدا من العلمین سے اس امر کا کہ ایسی تعلیم ملے جو دوسرے مذاہب سے افضل ہوا اور انسان اس پر فخر کر سکے۔اب اگر کوئی کہے کہ سلطنت کا وجود بعض مذاہب کیلئے ضروری ہے اور شاہت کی کمر مذ ہیں بادشاہت کیونکر مذہبی لحاظ سے دینی نعمت ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جن مذاہب میں شریعت کا دائرہ سیاسیات اور حمد فی احکام تک وسیع ہوتا ہے ان کے لئے بادشاہت ضروری ہے۔اگر بادشاہت نہ ہو تو ان احکام دین کا اجراء کس طرح ہو جو سیاسیات اور تمدن وغیرہ سے متعلق ہیں۔پس یہاں بادشاہت سے مراد وہ بادشاہت نہیں جو دین سے خالی ہو وہ تو ایک لعنت ہوتی ہے۔یہاں بادشاہت سے مراد وہ بادشاہت ہے جو احکام شرعیہ کو جاری کرے جیسے داؤد کو بادشاہت ملی یا سلیمان کو بادشاہت ملی اور انہوں نے اپنے عمل سے شریعت کے سیاسی اور تمدنی احکام کا اجراء کر کے دکھا دیا۔پس جس شریعت کے دائرہ میں تمدنی اور سیاسی احکام ہوتے ہیں اسے لازماً ابتداء ہی میں بادشاہت بھی دی جاتی ہے کیونکہ اگر بادشاہت نہ دی جائے تو شریعت کے ایک حصہ کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو جائے۔چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چونکہ خدا نے بادشاہت عطا فرما دی تھی ہمیں جب کسی مسئلہ میں شبہ پڑتا ہے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کام کس طرح کیا تھا۔اس طرح سنت ہماری مشکلات کو حل کر دیتی ہے لیکن اگر بادشاہت آپ کو حاصل نہ ہوتی تو سیاسی، قضائی اور بہت سے تمدنی معاملات میں صرف آپ کی تعلیم موجود ہوتی ، آپ کے عمل سے اس کی صحیح تشریح ہمیں نہ معلوم ہوسکتی۔پس یہ بات ضروری ہے اور سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ایسی شریعت جو سیاست اور تمدن پر حاوی ہو اس کے ابتداء ہی میں بادشاہت حاصل ہو جائے۔پس جعَلَكُمْ قُلُوعًا سے مراد وہی بادشاہت ہے جو احکام دین کے اجراء کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی جاتی ہے اور جس کا نفاذ