انوارالعلوم (جلد 15) — Page 71
انوارالعلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی عمل میں آ جانے سے دین مکمل ہوتا ہے۔اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے طبی مدارس کے سب طالب علم سرجری کی کتابیں تو پڑھتے ہی ہیں مگر کتابیں پڑھنے سے انہیں آپریشن کرنا نہیں آ تا بلکہ عمل کرنے سے آتا ہے۔ہمارے ملک میں ایک لطیفہ مشہور ہے کہ مہا راجہ رنجیت سنگھ جو گزشتہ صدی میں پنجاب کے بادشاہ تھے ان کے دربار میں ایک دفعہ دیتی کا کوئی حکیم آیا۔جو گوعلم طب خوب پڑھا ہو ا تھا مگر اسے تجربہ ابھی حاصل نہیں تھا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ کا ایک وزیر ایک مسلمان تھا جو طبیب بھی تھا اس لئے علاوہ وزارت کے طب کا کام بھی اس سے لیا جا تا تھا بلکہ اس پر آشوب زمانہ میں اسی فن کی وجہ سے وہ بچا ہوا تھا۔نو وارد طبیب نے وزیر سے اپنی سفارش کے لئے استدعا کی اور وزیر نے بوجہ اپنی شرافت کے اس سے انکار نہ کیا بلکہ مہا راجہ کی خدمت میں اسے پیش کر دیا۔مگر ساتھ یہ بھی کہ دیا کہ حضور علم طب ان حکیم صاحب نے خوب حاصل کیا ہوا ہے اگر حضور نے پرورش فرمائی تو حضور کے طفیل انہیں تجربہ بھی حاصل ہو جائے گا۔مہاراجہ رنجیت سنگھ بہت ذہین آدمی تھا فوراً حقیقت کو تاڑ گیا اور کہا کہ وزیر صاحب یہ دہلی سے آئے ہیں جو شا ہی شہر ہے۔ان کی قدر کرنا ہم پر فرض ہے مگر کیا تجربہ کے لئے انہیں غریب رنجیت سنگھ کی جان ہی نظر آئی ہے؟ انہیں دس ہزار روپیہ انعام دے دو اور رخصت کرو کہ کہیں اور جا کر تجربہ کریں۔یہ ایک لطیفہ ہے مگر اس میں یہ سبق ہے کہ بغیر تجربہ میں آنے کے علم کسی کام کا نہیں ہوتا اور شریعت کا علم اس سے باہر نہیں ہے۔تو شریعت بھی جب تک عمل میں نہ آئے اس کی تفصیلات کا پتہ نہیں چلتا اور وہ مکمل نہیں ہوتی۔پس اتمام دین سے مراد یہ ہے کہ احکام دین نازل ہو جائیں اور پھر وہ عمل میں بھی آ جائیں۔(۲) اسی طرح فرمایا کفار اس لئے مایوس ہو گئے ہیں کہ اتمام نعمت ہو گیا اور اتمام نعمت اس طرح ہوتا ہے کہ فیوض جسمانی و روحانی کا کامل افاضہ ہوا اور ہر دو انعامات حاصل ہو جائیں اور جب کسی شخص کو کسی کام کا نتیجہ مل جائے تو وہ اس کے سچا ہونے میں شک کر ہی نہیں سکتا۔اگر ایک کالج کی تعلیم کے بعد ڈگری مل جائے یا ایک محکمہ کی سروس کے بعد سرکار سے انعام مل جائے۔تو کون شک کر سکتا ہے کہ وہ کالج جھوٹا ہے یا وہ محکمہ فریب ہے۔اسی طرح جب کسی دین پر عمل کرنے کے نتیجہ میں جسمانی اور روحانی دونوں فیوض حاصل ہونے لگیں اور اس طرح اتمام نعمت انسان پر ہو جائے تو کون اس کی سچائی سے انکار کر سکتا ہے۔اب ہم قرآن کریم سے ہی دیکھتے ہیں کہ نعمت کیا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے۔نعمت کیا ہے وَاذْ قَالَ مُوسَى لِقَوْمِهِ يَقَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إذْ جَعَلَ فِيكُمْ أنْبِيَا وَجَعَلَكُمْ مُلُوعًا ، وأَتيكُمْ ما لَمْ يُؤْتِ احَدًا