انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 73

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی بسا اوقات غیر ماً مور خلافت کے ذریعہ سے بھی کرایا جاتا ہے۔گویا اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ فرمایا کہ تم کو ماً مور خلافت غیر ماً مور خلافت اور افضل شریعت مل گئی اور یہ انعام ہے۔پس جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا کہ ا ممتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ (۱) آپ کی اُمت میں اجرائے نبوت رہے گا۔(۲) اجرائے خلافت حقہ ہو گا۔(۳) اور آپ کو افضل تعلیم دی گئی ہے۔پھر آپ کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ إِنّا له لحفظون کہ جو تعلیم تجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں کسی کا دخل نہیں وہ لفظی الہام ہے اور ہم اس کی حفاظت کرتے رہیں گے۔پس جس تعلیم کی حفاظت کی جائے اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ آئندہ بھی افضل رہے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ما ننسخ من أية او ننسها تأتِ بِخَيْرٍ منها آذر مثلها اگر کوئی کلام منسوخ ہو تو اس سے بہتر لایا جاتا ہے جس سے یہ بھی نکلتا ہے کہ جس کلام کو منسوخ نہ کیا جائے اس سے بہتر اور کوئی کلام نہیں۔پس معلوم ہوا کہ قرآن کریم نہ صرف گزشتہ تمام الہامی کتابوں سے افضل ہے بلکہ ہمیشہ افضل رہے گا اور اس کی تنسیخ کا کبھی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا۔قرآن کریم اور باقی الہامی کتب کی ایسی ہی مثال ہے۔جیسے کابل میں بھی حکومت کے وہی شعبے ہیں جو حکومت برطانیہ کے شعبہ جات ہیں لیکن حکومت کابل کے مقابلہ میں حکومت برطانیہ زیادہ مضبوط اور زیادہ مفید کام کرنے والی ہے۔اسی طرح گو باقی الہامی کتب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئیں مگر قرآن کریم کی تعلیم ان سب سے زیادہ اعلیٰ ہے اور ہمیشہ اعلیٰ رہے گی۔اسلام کا انقلاب عظیم عظم پس ان دو آیتوں سے اس انقلاب عظیم کا پتہ لگ گیا جو اسلام کے ذریعہ سے ہوا۔یعنی (۱) اجرائے نبوت (۲) اجرائے خلافت (۳) افضل تعلیم۔اگر کہا جائے کہ یہی لفظ موسیٰ کی نسبت آئے ہیں۔پھر موسیٰ کی تعلیم سے یہ بڑھ کر کیونکر ہوئی ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس دلیل سے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ماننسخ من أيّة أو ننسها تأتِ بِخَيْرٍ منها أو مثلها جو تعلیم پہلی تعلیم کو منسوخ کر دے وہ اس سے بہتر ہوتی ہے۔چونکہ محمدی تعلیم نے موسوی تعلیم کو منسوخ کر دیا ہے اس لئے اس گلیہ کے مطابق وہ اس سے افضل ہے۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ یہ تو ہوئی نعمت۔مگر آیت میں تو ا تمام نعمت کا ذکر ہے۔پس خدا تعالیٰ نے نعمت تو دی مگر تمام نعمت کیونکر ہوئی ؟ تو اس کا جواب اس آیت میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَن يُطِعِ الله وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ