انوارالعلوم (جلد 15) — Page 17
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی ایک مظاہرہ تھیں ورنہ اصولِ حکومت وہی تھے جو ان مشہور تحریکات نے جاری کئے تھے۔بغاوت اس تہذیب کے آخری زمانہ کے علمبرداروں کے خلاف تھی اس تہذیب کے خلاف نہ تھی۔جو تبدیلی ہوئی وہ یہی تھی کہ اس تہذیب کا جھنڈا ایک ہاتھ سے نکل کر دوسرے ہاتھ میں آ گیا۔بعض دفعہ جھنڈے کا رنگ تھوڑا سا تبدیل کر دیا گیا۔بعض دفعہ جھنڈے کو زیادہ لمبا یا چھوٹا کر دیا گیا مگر حقیقت وہی رہی جو پہلے تھی۔رومن امپائر (ROMAN EMPIRE) کے بعد کے تغیرات جو مغرب میں ہوئے اگر دیکھا جائے تو رومن تہذیب کی تبدیل شدہ صورت ہی تھے اور ایرانی تہذیب کے بانیوں کے بعد کی حکومتوں میں صاف ابتدائی ایرانی تہذیب کی جھلک نظر آتی ہے۔آرین بانیانِ تہذیب کے بعد بدھ جین وغیرہ کئی قسم کے لوگوں نے حکومتیں کیں لیکن آرین ٹھپہ سب کے دامن پر موجود تھا۔بابل کی حکومت کے بعد عرب، شام، مصر وغیرہ ممالک میں کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں ،کئی بغاوتیں ہوئیں لیکن باہلی اثر نہ مٹنا تھا نہ مٹا۔اب مغربی تہذیب دُنیا پر غالب ہے۔ایشیا اور افریقہ اس کے جوئے سے آزاد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس سے پہلے امریکہ کے دونوں بر اعظم کا میاب کوشش کر چکے ہیں۔جاپان ایشیا کے ایک طرف اور ترکی دوسری طرف کامیاب کوشش کر چکے ہیں لیکن نتیجہ کیا ہوا ہے؟ صرف حاکم بدلے ہیں حکومت نہیں بدلی بلکہ ترک اور جاپانی تو آزادی کے بعد مغربیت کے پہلے سے بھی زیادہ شکار ہو گئے ہیں۔آج ہندوستان آزادی کیلئے تڑپ رہا ہے ، اس کے نوجوان اپنی جانیں ہتھیلیوں پر لئے کھڑے ہیں تا اپنے ملک کو بیرونی حکومت سے آزاد کرا دیں۔لیکن ان کی جد و جہد اسی حد تک محدود ہے کہ انگلستان کے مغربی کی جگہ ہندوستان کا مغربی لے لے اس سے زیادہ اس جد و جہد میں کوئی مقصد نہیں۔مسٹر گاندھی نے کھڈ رکالباس پہن کر اس امر کا اظہار کرنا چاہا ہے کہ گویا وہ اس تہذیب کے اثر سے آزاد ہونا چاہتے ہیں لیکن حقیقت سے واقف جانتے ہیں کہ ڈھانچہ وہی ہے صرف سکاٹ لینڈ کے ورسٹڈ (WORSTED) کی جگہ اسے کھڈ رکالباس پہنا دیا گیا ہے۔یا بقول مسیح پرانی شراب نئے مٹکوں میں ڈال دی گئی ہے اس سے زیادہ کوئی تغیر نہیں ہوا۔اب میں ان پانچوں تحریکوں کی کسی قدر تفصیل بیان کرتا ہوں تا کہ آپ لوگ سمجھ جائیں کہ یہ پانچ دور تہذیب کے دنیا کیلئے کیا پیغام لائے تھے اور کیا مفید چیز انہوں نے دنیا کو دی تھی جس