انوارالعلوم (جلد 15) — Page 18
انوار العلوم جلد ۱۵ سے وہ سینکڑوں ہزاروں سال کی جد وجہد کے بعد بھی آزاد نہیں ہو سکی۔انقلاب حقیقی جدید نسلی امتیاز یادرکھنا چاہئے کہ آرین تہذیب کی بنیاد آرین تحریک کا پیغام جدید نسلی امتیاز يوجينکس (EUGENICS) پر تھی یعنی ان کی ساری بنیاد اس امر پر تھی کہ سب انسان یکساں نہیں ہیں بلکہ انسانوں انسانوں میں فرق ہوتا ہے۔کوئی اعلیٰ ہوتا ہے تو کوئی ادنی۔جیسے کوئی امیر ہوتا ہے تو کوئی غریب، کوئی مضبوط ہوتا ہے تو کوئی کمزور ، کوئی اچھے دماغ کا کوئی بُرے دماغ کا اور یہ کہ اس فرق کو خاص حالات کے ماتحت پائیدار بنایا جا سکتا ہے۔اور دنیا کا فائدہ اسی میں ہے کہ انسانوں میں سے جو اعلیٰ ہوں انہیں آگے کیا جائے تاکہ نسلِ انسانی اعلی کمالات تک پہنچ سکے۔وہ کہتے ہیں کہ ایک مضبوط باپ کا بیٹا ضرور مضبوط ہوگا اور کمزور باپ کا بیٹا کمزور ہو گا۔اب اگر باپ کی وجہ سے جسم اعلیٰ بن سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ دماغ اعلیٰ نہ بنے ؟ پس اگر اچھے دماغ والا باپ ہوگا اور اچھے دماغ والی ماں ہو گی تو ان کا بیٹا بھی یقیناً اچھے دماغ والا ہوگا۔اس صورت میں اگر اس شخص سے جو نسل چلے وہ ہمیشہ اپنی قوم میں ہی شادیاں کرتی رہے تو ان کی قوم دوسری اقوام سے ضرور اعلیٰ ہوگی۔یہ آرین تہذیب جہاں بھی گئی ہے اس نے اپنی حکومت کو اسی بنیاد پر رکھا ہے یعنی اس نسلی امتیاز پر جو عقلی اور دماغی اور مذہبی دائروں پر حاوی تھا۔چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ایک برہمن کا لڑ کا علم کے لحاظ سے ہمیشہ دوسروں پر فوقیت رکھے گا ، ایک کھتری کا لڑ کا سپہ گری کے لحاظ سے دوسروں پر فوقیت رکھے گا اور جب ایک قوم جسے نسلی امتیاز کی وجہ سے برتری حاصل ہوگی آپس ہی میں شادیاں کرے گی تو وہ دنیا سے کبھی مٹ نہیں سکے گی اس لئے ان کا مذہب بھی اسی تحریک کے ماتحت چلتا ہے مثلاً وید آئے تو انہوں نے یہ حکم دے دیا کہ اگر شو در وید کوسن بھی لے تو اس کے کان میں سیسہ پگھلا کر ڈالا جائے۔یہ برہمن کا حق ہے کہ وہ وید سنے یا کھتری اور دیش کا حق ہے کہ وید سُنے۔شودر کا کیا حق ہے کہ وید سُنے گویا ان کے مذہب میں بھی یہی تحریک شامل ہوگئی۔پھر یہ جو وہ کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد انسان دنیا میں واپس آتا ہے اور مختلف جونوں میں ڈالا جاتا ہے جہاں تک میں نے غور کیا ہے یہ عقیدہ بھی اسی فلسفہ کا نتیجہ ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اعلیٰ نسل کے درجہ کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اعلیٰ رُوحیں اس میں شامل ہوتی رہیں اور اس کا طریق انہوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہر قوم میں جو اعلیٰ اور نیک روحیں ہیں وہ مرنے کے بعد برہمن