انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 16 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 16

انوار العلوم جلد ۱۵ پانچ عظیم الشان دُنیوی تحریکیں انقلاب حقیقی اگر دنیوی فتوحات کو دیکھیں تو فتوحات دنیوی کے لحاظ سے بھی وہی حکومتیں دنیا میں دیر تک رہی ہیں اور اُن کا اثر وسیع ہوا ہے جن میں کوئی نہ کوئی پیغام جدید اور انقلاب تھا۔یعنی پہلے نظام سے جدا گانہ حیثیت رکھتی تھیں اور نئے اصول پر قائم ہوئی تھیں۔اس قسم کی تحریکیں دنیا میں چند ہی گزری ہیں۔چنانچہ ان میں سے ایک تحریک جو ہندوستان میں اُٹھی آرین (ARIAN) کہلاتی ہے یعنی آریوں کی تحریک ، تحریک صرف ہندوستان تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یورپ پر بھی اس کا اثر تھا۔دوسری تحریک جو مغرب میں اُٹھی رومن تحریک تھی۔تیسری تحریک جو وسط ایشیا اور چین میں پیدا ہوئی اس کا نام میں ایرانی تحریک رکھتا ہوں۔چوتھی تحریک جو مغربی ایشیا اور افریقہ میں پیدا ہوئی اس کا نام میں بابلی تحریک رکھتا ہوں۔اور پانچویں تحریک جو موجودہ زمانہ میں نہایت ہی عالمگیر ہے وہ ہے جسے مغربی تحریک کہتے ہیں۔دنیا کی معلومہ تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی پانچ تحریکیں مادیات کو مد نظر رکھتے ہوئے نہایت مہتم بالشان اور عالمگیر تحریکیں گزری ہیں۔یعنی آرین تحریک، رومن تحریک، ایرانی تحریک، بابلی تحریک اور مغربی تحریک۔ان پانچوں تحریکوں کے پیچھے ایک نیا فلسفہ تھا اور ایک نئی تہذب تھی۔صرف یہی نہیں تھا کہ بعض قوموں نے تلوار میں پکڑیں اور چند ملک فتح کر لئے بلکہ ان تحریکات کے بانیوں نے اپنے سے پہلے نظام کو تہہ و بالا کر دیا اور ان کی جگہ ایک جدید تہذیب کی بنیاد ڈالی یا نئے علوم کا دروازہ کھولا اور گو ان نئی تحریکوں کے بانی کچھ عرصہ بعد سیاسی طور پر حکومت کھو بیٹھے اور ان کی جگہ دوسری قوموں نے لے لی مگر ان کو شکست دینے والے اور تباہ کرنے والے ان کے خیالات اور ان کے فلسفہ سے آزاد نہیں ہو سکے۔سیاسی غلامی جاتی رہی مگر ذہنی اور علمی غلامی قائم رہی اور حقیقی حکومت انہی کی رہی اور اسی فتح اور کامیابی کو پیغام جدید یا انقلاب کے نام سے پکارا جاتا ہے۔بظاہر آرین اور قدیم ایرانی اور رومن اور بابلی حکومتیں کچھ عرصہ کے بعد دُنیا سے مٹ گئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض کسی نہ کسی رنگ میں اب تک بھی دنیا میں موجود ہیں اور بظاہر ان سے نفرت کرنے والے لوگ بھی حقیقتا ان کی غلامی کا جوا گردنوں پر اُٹھائے کھڑے ہیں اور ان کے بعد میں آنے والی حکومتیں در حقیقت عمال کی تبدیلی کا