انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 14 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 14

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی سے کہا کہ اب بتاؤ کہ کیا شیطان یہ لا حَولَ دوسری طرف پہنچا رہا ہے؟ شیطان کو کہاں طاقت کہ وہ لا حَوْلَ کو پہنچائے ، وہ تو لا حَولَ سُنتے ہی بھاگ جاتا ہے۔ یہ بات اُس معترض کی سمجھ میں بھی آگئی اور اُس نے لوگوں کو بھی سمجھا دیا کہ یہ شیطان نہیں ہے کوئی اور چیز ہے ۔ غرض کئی تحریکات دنیا میں پیدا ہوتی ہیں ۔ لوگ ان کی مخالفتیں کرتے ہیں مگر آہستہ آہستہ وہ دنیا میں قائم ہو جا قائم ہو جاتی ہیں اور ۔ اور پہلے نظام میں اپنے لئے بھی جگہ نکال لیتی ہیں لیکن بعض ایسی تحریکات ہوتی ہیں جو پہلے نظام کو گلیہ بدل دیتی ہیں اور وہ صلح کر کے پہلے نظام کا حصہ نہیں بنتیں بلکہ ایک نیا نظام قائم کرتی ہیں اور پہلے نظام یا نظاموں کو توڑ دیتی ہیں ۔ ان کے لئے لڑائیاں لڑی جاتی ہیں جنگیں کی جاتی ہیں (خواہ جسمانی رنگ میں خواہ رُوحانی رنگ میں ) اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ ان کی وجہ سے دنیا کا امن جاتا رہا مگر آخر اس لڑائی اور جنگ کے بعد وہ دنیا میں قائم ہو جاتی ہیں اور ان کے ذریعہ سے دنیا میں پھر امن کا دور دورہ ہو جاتا ہے ۔ مکہ مکرمہ کے ٹیلیفون کے واقعہ کی مناسبت میں مجھے نواب اکبر یار جنگ صاحب بہادر نے بھی بتایا ہے کہ حیدر آباد کی مسجد میں لاؤڈ سپیکر لگایا گیا تو لوگوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا۔ ہمارے یہاں عورتوں کی جلسہ گاہ میں بھی گل لاؤڈ سپیکر پر فتوی لگ گیا تھا۔ بعض عورتیں سٹیج کے قریب آنا چاہتی تھیں اس پر انہیں منتظمات جلسہ نے بتایا کہ اب قریب آنے کی ضرورت نہیں یہ جو آلہ لگایا گیا ہے اس سے ہر جگہ آواز پہنچ جائے گی ۔ اس پر وہ کہنے لگیں ” سانوں تہاڈے فریب دا پتہ نہیں ؟ اسیں ایڑیاں ای بیوقوف ہاں؟ بھلا ایہہ ڈھو تو بولے گا ؟ یعنی کیا ، کیا ہمیں تمہارے فریب کا علم نہیں ہم اتنی بیوقوف نہیں کہ یہ خیال کر لیں کہ یہ ٹین کا پُر زہ بولے گا۔ گویا انہوں نے اپنی علمیت کی دلیل یہ دی کہ ہم خوب جانتی ہیں یہ ٹین سا جو لگا ہو ا ہے یہ نہیں بول سکتا ۔ یہ محض اپنی واقف عورتوں کو آگے بٹھانے کیلئے بہا نہ بنایا گیا ہے۔ دو 6 دوستوں کو چاہئے کہ وہ گھروں میں جا کر اپنی بیویوں کو سمجھا دیں کہ یہ ٹین کا پُر زہ خوب بولا کرتا ہے ۔ گل مستورات نے خوب گشتی کی اور بعض تو پہرہ دار عورتوں کو گرا کر آگے آگئیں اور کہا کہ ہم ایسے فریب میں نہیں آ سکتیں ۔ وہ اُن کو سمجھا دیں کہ یہ ہمارا فریب نہیں بلکہ یورپ میں والوں کا کارآمد فریب ہے جس سے واقعہ میں آواز دور دور تک پہنچ جاتی ہے۔ غرض اصلاح کے دو ذریعے ہیں صلح اور جنگ ۔ یعنی یا تو نئی تحریک کو پُرانی تحریک کے ساتھ سموکر اور ملا کر ایک نیا وجود بنا دیا جاتا ہے اور دونوں تحریکیں ایک تحریک ہو کر رہ جاتی ہیں اور یا