انوارالعلوم (جلد 15) — Page 13
انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی اس کے کہ بارش اوپر سے نیچے گرے اُس علاقہ میں نیچے سے اوپر کی طرف بارش گرتی ہے اور سورج زمین کے اوپر نہیں ہے بلکہ اس علاقہ میں زمین کے نیچے نظر آتا ہے۔غرض اُس پادری نے اپنے جاہلانہ خیالات کو ایسی رنگ آمیزی سے بیان کیا کہ لوگوں کو یقین ہو گیا کہ کولمبس دھو کا باز شخص ہے اور دربار نے بادشاہ کو یہ مشورہ دیا کہ اس شخص کی ہرگز مددنہیں کرنی چاہئے اور کولمبس کا سفر ایک لمبے عرصہ تک کیلئے ملتوی ہو گیا۔آخر ملکہ نے اپنی داتی آمد سے اُسے روپیہ دلوایا اور کولمبس نے امریکہ دریافت کیا جس سے سپین والوں کو بہت بڑا فائدہ پہنچا۔غرض ایک وہ زمانہ تھا کہ بڑے بڑے عقلمند یہ تسلیم نہیں کرتے تھے کہ زمین گول ہے اور اس پر ہنستے تھے لیکن آج بچوں سے بھی پوچھو تو وہ کہہ دیں گے کہ زمین گول ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ جب جہاز نظر آتا ہے تو پہلے اس کے اوپر کا حصہ نظر آتا ہے پھر نیچے کا اور اس طرح کی کئی اور دلیلیں دیتے جائیں گے۔غرض اب دنیا نے اس عقیدہ کو اپنا لیا ہے اور یہ بات رائج ہوگئی ہے۔تو بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو آہستہ آہستہ دنیا میں مقبول ہو جاتی ہیں۔بعض دفعہ تو اس طرح کہ پہلی بعض چیزوں کو منسوخ کر کے وہ قائم ہو جاتی ہیں اور بعض دفعہ اس طرح کہ پہلی بھی موجود رہتی ہیں اور نئی بھی اپنی جگہ پیدا کر لیتی ہیں جیسے موٹرمیں اور لاریاں آئیں تو گھوڑے بھی رہے مگر موٹروں اور لاریوں نے بھی اپنی جگہ بنالی۔شروع شروع میں جب ریل جاری ہوئی ہے تو انگلستان میں لوگ ریل کے آگے لیٹ جاتے تھے اور کہتے تھے کہ ہم مر جائیں گے پر اسے چلنے نہیں دیں گے مگر آخر ریل دنیا میں رائج ہوگئی۔ٹیلیفون جب مکہ میں لگا تو عربوں نے کہہ دیا کہ یہ شیطان ہے جو مکہ میں لایا گیا ہے اور ابن سعود کی اس قدر مخالفت ہوئی کہ اس کی فوجیں باغی ہونے لگیں۔آخر اس نے پوچھا کہ یہ شیطان کس طرح ہو گیا ؟ وہ کہنے لگے شیطان نہیں تو اور کیا ہے جدہ میں ایک شخص بات کرتا ہے اور وہ مکہ میں پہنچ جاتی ہے یہ محض شیطان کی شعبدہ بازی ہے۔وہ سخت گھبرایا کہ اب میں کیا کروں؟ آخر ایک شخص نے کہا کہ ان لوگوں کو میں سمجھا دیتا ہوں۔چنانچہ ٹیلیفون پر ایک طرف اُس نے عربوں کے اس لیڈر کو کھڑا کیا جو کہا کرتا تھا کہ شیطان بولتا ہے اور دوسری طرف خود کھڑا ہو گیا اور اُس نے پوچھا کہ بتاؤ حدیث میں آتا ہے یا نہیں کہ لاحول سے شیطان بھاگ جاتا ہے؟ اُس نے کہا آتا ہے۔پھر اس نے پوچھا کہ اگر کوئی حدیث کا منکر ہو تو وہ کیسا ہے؟ وہ کہنے لگا کافر۔اُس نے کہا۔اچھا سو! میں لاحول پڑھتا ہوں اور یہ کہ کر لا حول پڑھا اور اس معترض مولوی