انوارالعلوم (جلد 15) — Page 15
انوارالعلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی یا پھر نئی اور پرانی تحریک میں جنگ ہو کر نئی تحریک پُرانی کو اُکھیڑ کر پھینک دیتی ہے اور اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے۔اوّل قسم کی اصلاح ارتقاء کہلاتی ہے یعنی سہولت سے تغیر ہو جاتا ہے اور لوگوں کو محسوس بھی نہیں ہوتا۔مگر دوسری قسم کی تحریک جس میں لڑائی لڑنی پڑتی ہے اُسے عربی زبان میں انقلاب کہتے ہیں۔جیسے پنڈت جواہر لال صاحب نہرو کی مجالس میں نعرے لگائے جاتے ہیں کہ انقلاب زندہ باد “ یہ بھی وہی انقلاب ہے اور اس کے معنی یہ ہیں کہ موجودہ گورنمنٹ سے کانگرس کو اتنا اختلاف ہے کہ وہ اسے تو ڑ کر نکلی طور پر ایک نئی گورنمنٹ بنائے گی اور وہ کوئی درمیانی راسته قبول کرنے کیلئے تیار نہیں۔گو عملی طور پر کانگرس سب کچھ مان گئی ہے اور کئی صوبوں میں اس نے وزارتیں بھی سنبھال لی ہیں۔اب صرف عادت کے طور پر انقلاب زندہ باد کے نعرے لگائے جاتے ہیں جیسے طوطے میاں کو میاں مٹھو کہنے کی عادت ہوتی ہے۔ورنہ کانگرس کیلئے انقلاب کا زمانہ ختم ہو چکا ہے۔بہر حال انقلاب کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ موجودہ نظام کو کسی اصلاح یا تبدیلی کے ساتھ قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ اس نظام کو کلی طور پر پھینک دیا جائے گا ، توڑ دیا جائے گا ، تباہ کر دیا جائے گا اور اس کی جگہ ایک نیا نظام قائم کیا جائے گا۔جب یہ انقلاب دینی انقلاب ہو تو اسلامی اصطلاح میں اسے قیامت بھی کہتے ہیں اور اس کا ایک نام خلق السموت و الارض " بھی ہے یعنی نئی زمین اور نیا آسمان بننا۔اور ایک نام اس کا السَّاعَةُ بھی ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے روحانی انقلاب کو کبھی قیامت کہا ہے کبھی السَّاعَةُ " کے نام سے یاد کیا ہے اور کبھی نئی زمین اور نئے آسمان کے پیدا کئے جانے کے الفاظ سے اس کی حقیقت کو ظاہر کیا ہے۔دنیا میں جس قدر تبدیلیاں ہوئی ہیں یا کامیاب تحریکیں ہوئی ہیں ساری اسی رنگ میں ہوئی ہیں اور کوئی عالمگیر تحریک اور دیر تک رہنے والی تحریک ایسی نہیں جس میں دنیا کے لئے پیغام جدید نہ ہوا اور جس میں انقلاب نہ ہو۔ارتقائی تحریکات عظیم الشان تحریکوں میں سے نہیں ہوتیں۔عظیم الشان تحریکیں جب بھی دنیا میں ہوئی ہیں انقلاب کے ذریعہ سے ہوئی ہیں اور اگر اس نقطہ نگاہ سے دیکھا جائے تو ہم کانگرس سے بھی زیادہ جوش و خروش کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ انقلاب زندہ باد۔لیکن اس سے ہماری مراد اور ہوگی ان کی مُراد اس لفظ سے اور ہوتی ہے۔