انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 386

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور اس نقص کے ازالہ کیلئے میں برابر غور کرتا رہا ہوں۔بلکہ بعض دفعہ گھنٹوں میں نے غور اور فکر سے کام لیا ہے۔آخر سوچتے سوچتے خدا تعالیٰ نے ایک بات میرے دل میں ڈالی جس کے متعلق میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اس بارہ میں میرے ساتھ تعاون کرے تو گو وہ بظاہر ایک چھوٹی سی بات ہے لیکن شاید ہزاروں آدمیوں کی اخلاقی حالت میں اس سے ایک حیرت انگیز تغیر پیدا ہو جائے مگر میں یہ بتا دیتا ہوں کہ اس پر عمل کرتے وقت اپنی پہلی عادت کو کچھ نہ کچھ چھوڑ نا پڑے گا۔اگر تم یہ عہد کر لو کہ تم اپنی پہلی عادت کو ترک کر کے اس امر کی طرف توجہ کرو گے تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تم اپنے اعمال کی اصلاح میں بہت کچھ کامیاب ہو سکتے ہو۔لیکن اصل بات بتانے سے پہلے میں کچھ تمہیدی الفاظ بھی کہنا چاہتا ہوں تا کہ نفوس اس کو ماننے کیلئے تیار ہو جائیں۔یہ امر ظاہر ہے کہ اگر خاص حالات میں کوئی بات کہی گئی ہو تو اس کا اثر بھی خاص طور پر ہوتا ہے۔یوں تو ماں باپ اپنے بیٹوں کو ہمیشہ ہی کہتے رہتے ہیں کہ آپس میں صلح صفائی سے رہو لیکن جب باپ مر رہا ہوتا ہے اس کا سانس اکھڑ رہا ہوتا ہے اور اس پر نزع کی حالت طاری ہوتی ہے تو اس وقت جب وہ کہتا ہے کہ بچو! میں تو اب مرنے لگا ہوں تم آپس میں صلح کر لو تو تمام بھائی روتے ہوئے آپس میں چھٹ جاتے ہیں اور سالوں کے کینے اور بغض آنا فانا دُور ہو جاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کا ایک ماحول ہوتا ہے وہ ماحول اگر تیار کر لیا جائے تو انسان عمدگی کے ساتھ بات کو مان لیتا ہے لیکن اگر ما حول تیار نہ ہو تو انسان بات کو قبول کرنے سے ہچکچاتا ہے۔اس وجہ سے میں بھی پہلے ما حول تیار کرنا چاہتا ہوں اور سب سے پہلے یہ بتانا چاہتا ہوں کہ وہ بات کن حالات میں کہی گئی ہے لیکن اس سے بھی پہلے بعض متفرق باتیں بیان کرنا ضروری ہیں۔پہلی بات تو یہ ہے کہ بعض باتیں مقصود ہوتی ہیں اور بعض مقصود کے حصول کا ذریعہ ہوتی ہیں۔جیسے ایک دوست اپنے دوست کے ہاں جانا چاہتا ہے تو دوست کی ملاقات اس کا مقصود ہوتا ہے لیکن ذریعہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے پاس گھوڑے پر سوار ہو کر جائے یا ریل پر سوار ہو کر جائے یا موٹر پر سوار ہو کر جائے ان ذرائع کی موجودگی مقصود کے حصول کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے لیکن یہ ذرائع موقع اور محل کے لحاظ سے کبھی تو بہت زیادہ اہمیت اختیار کر لیتے ہیں اور کبھی کم اہمیت رکھتے ہیں۔مثلاً ہم نے کہیں جانا ہو تو ہم بھوتی ضرور پہنتے ہیں اور اس کا پہننا ہمارے مقصد کے حصول کیلئے ضروری ہوتا ہے لیکن اگر دوسرا مکان دروازہ پر ہی ہو تو بعض دفعہ ننگے پاؤں بھی چلے جاتے ہیں اور جوتی کی کچھ پروا نہیں کرتے۔تو مقصود کے حصول کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان کی اہمیت