انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 385

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور جائیں۔( بہت تھوڑے کھڑے ہوئے ) حضور نے فرمایا۔یہ دس بلکہ پانچ فی صدی بھی نہیں بنتے۔دوستوں کو اس طرف مزید توجہ کرنی چاہئے۔جماعت کی ترقی کے متعلق اعداد و شمار اس کے بعد حضور نے اندرون اور بیرونِ ہند میں احمدیت کی ترقی کا ذکر کیا۔اس میں جو جماعتیں سبقت لے گئی ہیں ان کے نام سنائے اسی طرح جن ضلعوں میں سے کم احمدی ہوئے ہیں یا سال بھر میں کوئی احمدی بھی نہیں ہوا ان کے نام لئے۔اندرونِ ہند میں سے تبلیغی لحاظ سے پہلا درجہ ضلع گورداسپور کو دوسرا درجہ بنگال کو اور تیسرا درجہ ضلع گجرات کو حاصل ہوا ہے۔لڑکیوں کو ورثہ دینے کی تحریک کے متعلق حضور لڑکیوں کو ورثہ دینے کی تحریک نے فرمایا۔بعض زمینداروں نے شاندار نمونہ دکھایا ہے مگر لاکھوں کی جماعت میں یہ مثالیں بہت کم ہیں۔میں چاہتا ہوں کہ جن دوستوں کو میری اس نصیحت پر عمل کرنے کا موقع ملا ہو وہ اطلاع بھجوا دیں کہ ہم نے اس پر عمل کیا ہے اور جنہوں جنگ کا ذکر نے اس پر عمل نہ کیا ہو ان کے متعلق بھی اطلاع دی جائے۔جنگ کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا۔یہ معمولی جنگ نہیں ہے اس کا اثر ہماری جماعت پر بھی پڑنے والا ہے ہماری جماعت کو چاہئے کہ اس میں حکومت کو ہر ممکن امداد دے۔حضور نے فرمایا۔ہر احمدی جماعت میں ایک سیکرٹری جنگ بنایا جائے تاکہ جنگ کے متعلق جس قسم کے احکام مرکز سے بھیجے جائیں ان کو عمل میں لائے۔اور احمدی ہر طرح مدد دیں۔یہ مدد اسلام اور احمدیت کیلئے ضروری ہے۔(الفضل ۳ جنوری ۱۹۴۰ء) اصلاح اعمال کا ایک لطیف گر ایک ضروری امر جس کی طرف میں آج جماعت کے دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعت کی تربیت میں مجھے بعض دفعہ بڑی بڑی دقتیں پیش آئی ہیں اور ان دقتوں کو دور کرنے کیلئے میں ایک لمبے عرصہ تک غور کرتا رہا ہوں اور سوچتا رہا ہوں کہ ان کا کیا علاج کیا جائے۔میں نے ۱۹۳۶ ء میں اس کے متعلق بعض خطبات بھی پڑھے تھے اور میں نے بتایا تھا کہ عقائد کے لحاظ سے تو ہم دوسروں پر فتح حاصل کر چکے ہیں مگر اعمال کے لحاظ سے ابھی ہم میں بہت کچھ کمزوریاں باقی ہیں اور اس لحاظ سے دوسروں پر ابھی ہمارا پوری طرح رُعب نہیں چھایا۔