انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 387 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 387

انوار العلوم جلد ۱۵ اہم اور ضروری امور اور عدمِ اہمیت مختلف حالات کی وجہ سے ہوتی ہے۔اگر ان کے بغیر کسی صورت میں بھی مقصود پورا نہ ہو سکے تو وہ ویسی ہی اہمیت اختیار کر لیتی ہیں جیسے مقصود اہم ہوتا ہے اور اگر وہ ذرائع محض کام میں آسانی پیدا کرنے کیلئے ہوں تو گو پھر بھی ہم ان کو اہمیت دیں گے مگر اتنی نہیں جتنی اس صورت میں ان کو اہمیت حاصل ہو سکتی ہے جب اس کے بغیر مقصود پورا ہی نہ ہو سکے۔مثلاً ہم کہیں گھوڑے پر سوار ہوکر جانا چاہیں اور دس گھوڑے ہمارے پاس موجود ہوں تو گوگھوڑا ہمارے لئے ضروری ہو گا مگر ہر گھوڑا مقصود نہیں ہو گا بلکہ ان دس میں سے جو گھوڑا بھی مل جائے وہ ہماری ضرورت کو پورا کرنے کیلئے کافی ہوگا۔مگر بعض دفعہ ذریعہ اتنی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ اسے مقصود سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور دونوں لازم و ملزوم ہو جاتے ہیں۔مثلاً اگر مقصود کے حصول کے کئی ذرائع ہوں تو گو کوئی نہ کوئی ذریعہ ضروری ہوگا لیکن اپنی ذات میں کوئی ذریعہ خاص اہم نہ ہوگا کیونکہ ایک کو چھوڑ کر دوسرے سے کام لیا جا سکتا ہے۔لیکن اگر فرض کرو کہ کسی مقصود کا ایک ہی ذریعہ ہو تو پھر وہ ذریعہ بھی خاص اہمیت حاصل کر لے گا اور اس کی حیثیت ان ذرائع سے مختلف ہو گی جو متعدد ہوتے ہیں جیسے ایک مکان کے اگر کئی دروازے ہوں تو کسی خاص دروازہ کو ہم اہمیت نہیں دیں گے مگر ایک ہی دروازہ ہو تو اسے خاص اہمیت حاصل ہو جائے گی۔یا انسانوں کی مثال ہو تو بقائے نسل کیلئے اولاد کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر ایک شخص کے کئی بیٹے ہوں تو وہ سب سے ہی محبت کرے گا لیکن اس کی بقائے نسل کی خواہش کسی ایک کے ذریعہ بھی پوری ہوسکتی ہے۔فرض کرو اس کے دس بیٹے ہیں اور 9 سے اس کی نسل نہیں چلی تو وہ یہ کہ کر اپنے دل کو تسلی دے سکتا ہے کہ ایک بیٹا تو موجود ہے اس سے میری نسل قائم رہ جائے گی لیکن اگر کسی شخص کا ایک ہی بیٹا ہو تو اس کی محبت اپنے بیٹے سے بالکل اور رنگ کی ہو گی کیونکہ اس کیلئے مقصد کے حصول کا صرف ایک ہی ذریعہ ہے۔اسی طرح اس بیٹے کی اہمیت بھی اس کے نزدیک بالکل اور رنگ کی ہو گی۔جس شخص کے دس بیٹے ہوں ان میں سے ایک اگر کسی شدید مرض میں مبتلاء ہوتا ہے تو اس کی نظر اپنے باقی بیٹوں کی طرف اُٹھنے لگتی ہے لیکن جس شخص کا ایک ہی بیٹا ہو اور وہ مرض الموت میں مبتلاء ہو تو اس کے دل کی جو کیفیت ہوگی وہ بالکل نرالی ہوگی اور اس کا مقابلہ کوئی دوسرا شخص نہیں کر سکے گا۔اس بات کو سمجھانے کے بعد میں یہ بتا تا ہوں کہ رسول کریم " کی بھی ایسی ہی مثال ہے۔آپ سے ہمارا جو روحانی تعلق ہے وہ اس وجہ سے ہے کہ آپ ہمارے لئے خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں مگر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ آیا آپ بندوں اور خدا کے درمیان تعلق قائم کرنے کا