انوارالعلوم (جلد 15) — Page 306
انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) خدا تعالیٰ کی ہی عطا کردہ ہیں۔پس عبادت کا اصل مستحق خدا ہے نہ کہ کوئی اور چیز۔یہ تقریر آپ کر ہی رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک لطیف نکتہ سمجھا دیا فنظر نظرةٌ في النُّجُومِ آپ نے ستاروں میں دیکھا فقال إني سقیم اور کہا کہ میں بیمار ہوں آپ کا یہ کہنا تھا کہ لوگ چلے گئے اور مجلس منتشر ہو گئی۔یہاں مفسرین کو بڑی مشکل پیش آئی ہے اور وہ حیران ہیں کہ فنظر نظرة في النُّجُومِ فَقَالَ إِنِّي سَقِیم کے کیا معنی کریں۔بعض کہتے ہیں کہ اُس روز آپ واقعہ میں بیمار تھے جب بحث زیادہ ہو گئی تو انہوں نے کہا اب مجھے آرام کرنے دو میں بحث کر کے تھک گیا ہوں۔مگر بعض کہتے ہیں کہ آپ اُس روز بیمار تھے ہی نہیں۔آپ نے اني سقيم جو کہا تو محض اُن سے پیچھا چھڑانے کے لئے کہا ، چونکہ وہ بحث کرتے ہی چلے جاتے تھے اور بس کرنے میں نہیں آتے تھے اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بول کر کہدیا کہ میں بیمار ہوں چنانچہ وہ چلے گئے۔بعض کہتے ہیں کہ آپ نے جھوٹ نہیں بولا تھوڑے بہت آپ ضرور بیمار تھے چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آپ کو اس دن نزلہ کی شکایت تھی۔آپ نے انہیں کہہ دیا کہ بھائی اب معاف کرو میں بیمار ہوں۔غرض مفتر بین اس موقع پر عجیب طرح گھبرائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اُن سے کوئی تاویل بن نہیں پڑتی، کبھی کوئی بات کہتے ہیں اور کبھی کوئی ،مگر سوال یہ ہے کہ اتي سقیم سے پہلے یہ الفاظ ہیں کہ فنظر نظرةً فِي النُّجُومِ۔انہوں نے ستاروں کو دیکھا۔اب سوال یہ ہے کہ ان کے بیمار ہونے کی خبر کا ستاروں سے کیا تعلق ہے؟ بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے ستاروں کو دیکھ کر یہ معلوم کیا تھا کہ اب بحث کرتے کرتے بہت دیر ہوگئی ہے حالانکہ دیر ہو جانے کا ستاروں سے کوئی تعلق نہیں ہوتا آپ ہی انسان سمجھ لیتا ہے کہ اب فلاں کام کرتے کرتے مجھے کافی دیر ہو گئی ہے۔ستاروں کی طرف دیکھ کر کوئی یہ نہیں کہا کرتا کہ اب بہت دیر ہو گئی ہے۔پھر سوال یہ ہے کہ اگر ستاروں کو دیکھ کر انہوں نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ دیر ہوگئی ہے تو انہیں کہ دینا چاہئے تھا اب بہت دیر ہوگئی ہے تم چلے جاؤ مگر وہ یہ نہیں کہتے کہ دیر ہو گئی ہے تم چلے جاؤ بلکہ وہ یہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہوں۔اس پر بعض مفسرین لغت کی پناہ ڈھونڈ نے لگے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ مستقیم کے ایک معنے بیزار کے بھی ہیں انہوں نے بحث کرتے کرتے ستاروں کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں ان ستاروں سے سخت بیزار ہوں۔اس پر یہ اعتراض پڑتا ہے کہ یہ قول بھی صحیح نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان مشرکین سے یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں تم سے بیزار ہوں۔ستاروں کے متعلق یہ کہنے کا کیا فائدہ تھا کہ میں