انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 307

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) ان سے بیزار ہوں۔حقیقت یہ ہے کہ ان معنوں میں سے کوئی معنے بھی صحیح نہیں۔اصل معنے فنظر نظرة في النجوم کے یہ ہیں کہ جب آپ ان لوگوں سے بحث کر رہے تھے تو بحث کرتے کرتے اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں یہ بات ڈالی کہ ان زبانی باتوں سے تو ان کا اطمینان نہیں ہو گا تم یوں کرو کہ اسی وقت اپنا زائچہ نکالو چنانچہ جب وہ تقریر کر رہے تھے کہ ستاروں میں کوئی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو نقصان پہنچائیں ، سب طاقتیں اور قدرتیں خدا تعالیٰ کو ہی ہیں۔تو معا آپ نے اپنی تقریر کا رُخ بدلا اور کہا دیکھو ! تم جو ستاروں کی گردشوں اور اُن کی چالوں کے بہت قائل ہو، میں تم پر اتمام حجت کرنے کے لئے تمہارے سامنے اپنا زائچہ نکالتا ہوں چنانچہ انہوں نے جو زائچہ دیکھا تو اس سے مہورت ۲۵ یہ نکلی کہ ابراہیم کی خیر نہیں وہ ابھی بیمار ہو جائے گا۔اس امر کو معلوم کرنے کے لئے چاہے انہوں نے اوپر دیکھا ہوا اور ممکن ہے کہ اوپر ہی دیکھا ہو کیونکہ رفی کا لفظ آیت میں استعمال ہوا ہے اور ممکن ہے کہ انہوں نے نقشہ دیکھا ہو، بہر حال جب انہوں نے ستاروں کی چال کو دیکھا اور مقررہ نقشہ سے اپنا زائچہ نکالا ، تو اُس میں لکھا تھا کہ فلاں ستارہ کی گردش سے ابراہیم اسی گھڑی بیمار ہو جائے گا ( گویا انی سقیم کے یہ معنی نہیں کہ میں بیمار ہوں بلکہ یہ ہیں کہ میں بیمار ہونے والا ہوں ) جب یہ زائچہ نکل آیا تو حضرت ابراہیم السلام نے اُن سے کہا کہ اب میری اور تمہاری بحث ختم۔اگر میں بیمار ہو گیا تو میں مان لونگا کہ تم سچ کہتے ہو اور اگر میں بیمار نہ ہو ا تو تمہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ ستاروں کی گردشوں اور چالوں پر یقین رکھنا اور یہ خیال کرنا کہ ستاروں کا انسانوں پر بھی اثر ہوتا ہے بیہودہ بات ہے۔چنانچہ اسی پر بات ختم ہوگئی اور وہ اُٹھ کر چلے گئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام یہاں سے فارغ ہوتے ہی بت خانہ میں گئے اور انہوں نے بت توڑنے شروع کر دیئے۔جب ان کے بُت ٹوٹے اور لوگوں کو یہ خبر ہوئی تو وہ دوڑے دوڑے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا دکھائی نہیں دیتا کیا کر رہا ہوں، تمہارے بتوں کو توڑ رہا ہوں تا کہ تمہیں یہ معلوم ہو کہ میں بیمار نہیں ہوں اور تمہارے زائچہ نے جو کچھ بتایا تھا وہ غلط ہے انہوں نے جب دیکھا کہ ہمیں دُہری ذلت پہنچی ہے یعنی ایک تو یہ ذلت کہ ستارے کا اثر جو زائچہ سے نکلا تھا وہ غلط ثابت ہوا اور دوسری یہ ذلت کہ ہمارے بُت اُسی گھڑی توڑے گئے ہیں جس گھڑی ابراہیم نے بیمار ہونا تھا تو وہ سخت طیش میں آگئے اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ ابراہیم کو اُسی وقت آگ میں ڈال کر جلا دیا جائے تاکہ ہم لوگوں سے یہ کہہ سکیں کہ زائچہ میں جو یہ لکھا تھا کہ ابراہیم پر ایک