انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 305

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) گزری تھی کہ ایک بڑھا شخص اس دُکان پر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک بُت چاہئے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک بُت اُٹھایا اور گاہک کے ہاتھ میں دیدیا۔وہ اُسے دیکھ کر کہنے لگا کہ اچھا ہے اس کی قیمت بتاؤ۔انہوں نے کہا کہ تم پہلے یہ بتاؤ کہ تم اس بُت کو کیا کرو گے۔اُس نے کہا اسے گھر میں لے جاؤں گا اور اپنے سامنے رکھ کر اس کے آگے سجدہ کیا کرونگا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے یہ سن کر بڑے زور سے ایک قہقہہ لگایا اور کہا تجھے اس کے آگے جھکتے ہوئے شرم نہیں آئے گی ؟ تو ستر اسی سال کی عمر کا ہو گیا ہے اور یہ بُت وہ ہے جو کل ہی میرے چچا نے بنوایا ہے بھلا اس بت نے جسے گل سنگ تراش نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے تجھے کیا فائدہ پہنچانا ہے؟ اور کیا تجھے شرم نہیں آئے گی کہ تو اتنا بڑا آدمی ہو کر اس کے آگے جھک جائے۔اب وہ گو بت پرست ہی تھا مگر یہ فقرہ سُن کر اس کے اندر بُت کو گھر لے جانے کی ہمت نہ رہی اور وہ وہیں اسے چھوڑ کر چلا گیا۔ان کے بھائیوں کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے باپ سے شکایت کر دی کہ ابراہیم کو دُکان پر نہ بٹھایا جائے ورنہ یہ تمام گاہکوں کو خراب کر دیگا۔تو ان لوگوں میں ستاروں کا علم خاص طور پر پایا جاتا تھا اور علم رمل اور علم نجوم آئندہ نسلوں کو سکھایا جاتا تھا۔جس طرح ہندوؤں میں پنڈت اس کام میں مشاق ہوتے ہیں اور وہ زائچہ نکالتے اور جنم پتری دیکھتے ہیں اسی طرح ان کو بھی زائچہ نکالنا اور جنم پتری دیکھنا سکھایا جاتا تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی چونکہ ایسے ہی خاندان میں سے تھے اس لئے لازماً انہوں نے بھی یہ علم سیکھا، مگر جب بڑے ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو توحید کی تعلیم دینی شروع کر دی تو قوم سے ان کی بحثیں شروع ہوگئیں۔حضرت ابراہیم کا ستارہ پرستوں کو درس توحید ایک دن وہ اپنے رشتہ داروں اور قوم کے دوسرے لوگوں سے کہنے لگے کہ تم یہ تو سوچو کہ آخر تم کس چیز کی عبادت کرتے ہو۔تم جھوٹ اور فریب کے ساتھ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اور معبود بناتے ہو اور پھر یہ جانتے ہوئے کہ تم نے خود اپنے ہاتھ سے ان بتوں کو بنایا ہے ان کے پیچھے چل پڑتے ہو اور انہیں خدا کا شریک قرار دیتے ہو؟ تم جوستاروں کے پیچھے چل رہے ہو ہمیشہ تم کہتے ہو کہ مریخ نے یہ کر دیا، زحل نے وہ کر دیا۔مشتری نے یہ کیا اور عطارد نے وہ کیا۔تم یہ کیوں نہیں دیکھتے کہ رب العلمین کیا کر رہا ہے کس قدر ایک وسیع نظام ہے جو ہر چیز میں نظر آتا ہے۔کیا یہ تمام نظام ایک بالا قانون کے بغیر ہی ہے؟ ساری چیزیں اس کے اشاروں پر چل رہی ہیں اور ان ستاروں میں بھی جس قدر طاقتیں ہیں وہ