انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 289

سیر روحانی تقریر (۱) انوار العلوم جلد ۱۵ دھو کا میں آگئے اور شیطان سے صلح کر کے انہوں نے بہت کچھ تکلیف اُٹھائی نتیجہ یہ ہوا کہ خدا تعالیٰ نے کہا کہ تم یہاں سے چلے جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ اور یاد رکھو کہ تم دونوں گروہوں میں ہمیشہ جنگ رہے گی یہ معنے بھی ہیں جو ان آیات کے ہو سکتے ہیں، لیکن بہتر یہی ہے کہ جسے خدا نے چھپایا ہے اُس کی جستجو میں ہم اپنے وقت کو ضائع نہ کریں اور جس سبق کے سکھانے کے لئے اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے وہ سبق حاصل کر لیں۔رائشِ انسانی میں ارتقاء کا ایک اور ثبوت پیدائش انسانی میں ارتقاء کا ایک اور ثبوت یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے الہام میں بھی ارتقاء رکھا ہے۔کامل اور مکمل شریعت پہلے ہی روز نہیں آ گئی بلکہ آہستہ آہستہ اور درجہ بدرجہ الہام میں ترقی ہوئی ہے۔چنانچہ جب بھی غیر مذاہب والوں کی طرف سے اسلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر قرآن میں کامل شریعت تھی تو ابتدائے عالم میں ہی اللہ تعالیٰ نے اسے کیوں نازل نہ کر دیا ؟ تو اس کا جواب ہماری طرف سے یہی دیا جاتا ہے کہ اگر اُس وقت قرآن نازل کر دیا جاتا تو کسی انسان کی سمجھ میں نہ آ سکتا کیونکہ ابھی عقلی ترقی اس حد تک نہیں ہوئی تھی کہ وہ قرآنی شریعت کے اسرار اور غوامض سمجھ سکے تو الہام الہی کا فلسفہ جو قرآن کریم نے بیان کیا ہے اس سے صریح طور پر یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ انسان کی ترقی بھی ارتقاء کے ماتحت ہوئی ہے۔دیکھ لو پہلے حضرت آدم آئے ، پھر حضرت نوح آئے، پھر حضرت ابرا ہیم آئے ، پھر حضرت موسیٰ آئے ، پھر حضرت عیسی آئے ، مگر باوجود یکہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک ہزاروں برس گزرچکے تھے آپ نے لوگوں سے فرمایا کہ:- د مجھے تم سے اور بھی بہت سی باتیں کہنی ہیں مگر اب تم ان کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب وہ یعنی روح حق آئیگا تو تم کو تمام سچائی کی راہ دکھائے گا“ ۵۰ اس سے ظاہر ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے زمانہ تک بھی ابھی لوگوں کی حالت ایسی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کامل شریعت کو سمجھ سکتے اور اس بات کی ضرورت تھی کہ اُن کے لئے نسبتا نامکمل انکشاف ہو۔یہ ارتقاء جو الہام اور شریعت میں ہوا ہے اس بات کا یقینی اور قطعی ثبوت ہے کہ انسان کی جسمانی ترقی بھی ارتقائی تھی اگر یکدم ترقی کر کے انسان کامل بن گیا ہوتا تو پہلے ہی دن اس کے لئے کامل شریعت کا نزول ہو جاتا۔یہ عجیب بات ہے کہ آجکل آرین خیالات کے لوگ اسلام پر یہ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ