انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 288

انوار العلوم جلد ۱۵ سیر روحانی تقریر (۱) میں نہیں آتے تو اُس نے کہا کہ صلح سے بڑھ کر اور کیا چیز ہوسکتی ہے۔بہتر یہی ہے کہ ہم اور تم آپس میں صلح کر لیں اور ان روز روز کے جھگڑوں کو نپٹا دیں جیسا کہ یورپ والے بھی آجکل بظاہر پیس پیس (PEACE PEACE) کا شور مچارہے ہوتے ہیں اور اندر بڑے زور سے جنگ کی تیاریوں میں مصروف ہوتے ہیں۔اٹلی کی جب لڑکی سے لڑائی ہوئی تو اس لڑائی سے تین دن پہلے اٹلی کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ ترکوں سے ہماری اتنی صلح ہے اور اس قدر اس سے مضبوط اور اچھے تعلقات ہیں کہ پچھلی صدی میں اس کی کہیں نظیر نہیں مل سکتی ، مگر اس اعلان پر ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ اٹلی نے لڑکی پر حملہ کر دیا۔یہی حال باقی یوروپین اقوام کا ہے وہ شور مچاتے رہتے ہیں کہ صلح بڑی اچھی چیز ہے، امن سے بڑھ کر اور کوئی قیمتی ھے نہیں ، مگر اندر ہی اندر سامانِ جنگ تیار کر رہے ہوتے ہیں۔گویا وہ صلح صلح اور امن امن کے نعرے اس لئے نہیں لگاتے کہ انہیں صلح اور امن سے محبت ہوتی ہے بلکہ اس لئے نعرے لگاتے ہیں کہ انہوں نے ابھی پوری طرح جنگ کی تیاری نہیں کی ہوتی اور وہ چاہتے ہیں کہ صلح اور امن کا شور مچا کر دوسروں کو جس حد تک غافل رکھا جا سکے اُس حد تک غافل رکھا جائے اور پھر یکدم حملہ کر دیا جائے۔یہی حال حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ہوا۔خدا تعالیٰ نے آدم کو کہا دیکھنا شجرہ شیطانی کے قریب نہ جانا بلکہ ہمیشہ اس کے خلاف لڑائی جاری رکھنا کیونکہ شیطان کے ساتھ جب بھی صلح ہوگی اس میں مؤمنوں کی شکست اور شیطان کی فتح ہوگی اور اس صلح کے نتیجہ میں تمہارے لئے بہت زیادہ مشکلات بڑھ جائیں گی۔حضرت آدم علیہ السلام نے اس حکم کے نتیجہ میں شیطان سے لڑائی شروع کر دی۔جب شیطان نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں بنے گا تو اس نے صلح صلح کا شور مچادیا اور کہا کہ بھلا لڑائی سے بھی کبھی امن قائم ہو سکتا ہے امن تو صلح سے ہو سکتا ہے پس بہتر ہے کہ ہم آپس میں صلح کر لیں۔حضرت آدم علیہ السلام سے غلطی ہوئی اور انہوں نے شیطان سے صلح کر لی۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی اسی جنت کے اندر آ گیا جہاں حضرت آدم علیہ السلام اور آپ کے ساتھی رہتے تھے اور اس طرح اندر رہ کر اس نے قوم میں فتنہ و فساد پیدا کر دیا اور وہ مقصد جس کو باہر رہ کر وہ حاصل نہیں کر سکا تھا وہ اُس نے اندر آ کر حاصل کر لیا اور بہت بڑا فساد پیدا ہو گیا۔تب اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اب ہم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ یہاں سے چلے جاؤ اور زمین میں پھیل جاؤ۔پس اگر اس کے کوئی معنے ہو سکتے ہیں تو یہی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو حکم دیا تھا کہ خاندانِ ابلیس سے دُور رہو ، ابلیس نے صلح کی دعوت دی اور کہا کہ اس سے بڑی ترقی ہو گی ، حضرت آدم اس