انوارالعلوم (جلد 15) — Page 228
انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیادین نہیں لائے ہیں۔اس مثال کو اپنے سامنے رکھو اور پھر دیکھو کہ مسلمانوں کے اس عقیدہ کا مفہوم یہ ہے کہ ایک زمانہ میں اسلام کا چراغ بجھ جائے گا اور اس بات کی ضرورت ہوگی کہ اس کو روشن کیا جائے۔محمد رسول اللہ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں گے مگر مسلمانوں میں انہیں کہیں روشنی نظر نہیں آئے گی صرف یہودیوں کے گھر میں ایک لیمپ چل رہا ہوگا جسے دیکھ کر محمد رسول اللہ ﷺ ان یہودیوں کے گھر جائیں گے اور اس لیمپ سے اسلام کے بجھے ہوئے چراغ کو روشن کریں گے۔بتاؤ کیا اس میں رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے یا آپ کی عزت؟ غرض حیات مسیح کا عقیدہ ایسا خطرناک ہے کہ خدا کی اس میں عزت نہیں ، رسول کریم کی اس میں عزت نہیں ، حضرت عیسی علیہ السلام کی اس میں عزت نہیں صرف مولویوں کی عزت ہے مگر خدا اور اس کے رسولوں کے مقابلہ میں ان مولویوں کی عزت کی کیا حقیقت ہے کہ کوئی با غیرت مسلمان اس کا خیال رکھ سکے۔مگر ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے جب اپنی قوم کی اصلاح کر لی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں وفات دے دی اور اب اُمتِ محمدیہ کی اصلاح کیلئے انہیں ہی امتی بنا کر نہیں بھیجا جائے گا بلکہ اللہ تعالیٰ رسول کریم ﷺ کے متبعین میں سے ایک شخص کو اصلاح خلق کیلئے کھڑا کر دے گا ، وہ آپ کے نور میں سے نورلے گا اور آپ کی معرفت میں سے معرفت اور اس طرح وہ آپ کا غلام اور خادم بن کر لوگوں کو پھر اسلام پر قائم کرے گا اور آپ کسی موسوی نبی کے شرمندہ احسان نہیں ہوں گا۔یہ چند موٹی موٹی باتیں ہیں جن سے یہ مسئلہ آسانی کے ساتھ حل ہو جاتا ہے۔باقی رہا نبوت کا مسئلہ سو اس کے متعلق بھی مخالف علماء لوگوں کو سخت مغالطہ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شرک فی النبوۃ ہے۔ان کا مفہوم اس اصطلاح سے یہ ہوتا ہے کہ گویا ہم نے حضرت مرزا صاحب کو نبوت میں رسول کریم ﷺ کا شریک بنالیا ہے حالانکہ یہ بھی درست نہیں کیونکہ نبوت کو جس رنگ میں وہ پیش کرتے ہیں اس رنگ میں ہم اسے مانتے ہی نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایسی نبوت کے مدعی ہیں جس سے رسول کریم ﷺ کی ہتک ہوتی ہے اس لئے وہ آپ کی نبوت کو شرک فی النبوۃ قرار دیتے ہیں اور چونکہ شرک کا لفظ ایک مسلمان کیلئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسے بیل کیلئے سُرخ چیتھڑا ، اس لئے شرک فی النبوۃ کے الفاظ سنتے ہی مسلمان کہنے لگ جاتے ہیں کہ دیکھو کتنا بڑا اندھیرا ہے کہ احمدی شرک فی النبوۃ کرتے ہیں۔حالانکہ جو لوگ اسے شرک قرار دیتے ہیں وہ شرک کی حقیقت سے بالکل ناواقف ہوتے ہیں۔شرک ایک تو ظاہری رنگ میں ہوتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی انسان کو یا کسی اور چیز کو