انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 229 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 229

انوار العلوم جلد ۱۵ صلى الله بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے سجدہ کر دینا یہ تو ہر صورت میں منع ہے لیکن باطنی شرک ہمیشہ نسبتی ہوتا ہے۔اگر جتنی محبت تم خدا سے کرتے ہو اتنی ہی محبت تم کسی نبی سے کرتے ہو تو تم مشرک ہو۔لیکن اگر محبتوں کے نمبر ہوں۔کوئی روپیہ جتنی محبت ہو، کوئی اٹھنی جتنی محبت ہو، کوئی چوٹی جتنی محبت ہو، کوئی دوئی جتنی محبت ہوا اور کوئی کوڑی جتنی محبت ہو تو اس صورت میں شرک کی تعریف بالکل بدل جائے گی۔اگر خدا کی محبت تمہارے دل میں دو آنے کے برابر ہے اور تم دو یا اڑھائی آنہ محبت حضرت عیسی علیہ السلام سے یا کسی اور نبی سے کرتے ہو تو یہ شرک ہوگا لیکن اگر یہ محبت ڈیڑھ آنہ کے برابر ہے تو یہ شرک نہیں ہو گا۔اس کے مقابلہ میں اگر کسی کو حضرت عیسی علیہ السلام سے اڑھائی آنے کے برابر محبت ہے اور خدا سے اسے ایک روپیہ کے برابر محبت ہے تو باوجود اس کے کہ یہ محبت پہلے شخص کی محبت سے زیادہ ہوگی پھر بھی یہ شرک نہیں کہلائے گی۔کیونکہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی محبت اس کے دل میں پہلے شخص سے زیادہ ہے تو خدا کی محبت اس سے بھی زیادہ ہے۔شرک تب ہوتا جب دونوں محبتیں ایک مقام پر ہوتیں۔مگر جب دونوں ایک مقام پر نہیں تو شرک کس طرح ہو گیا۔اب یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمان رسول کریم ﷺ سے جو محبت رکھتے ہیں اس کی کسی اور نبی کے ماننے والوں میں نظیر نہیں مل سکتی۔اور جو بچے مؤمن ہوں ان کا دل تو اللہ تعالیٰ اتنا وسیع بنادیتا ہے کہ ان کی محبت زمین و آسمان پر حاوی ہو جاتی ہے۔چنانچہ ایک موٹی بات دیکھ لو۔حضرت عیسی علیہ السلام پر جب ایک ابتلاء کا وقت آیا تو ان کے تمام حواری بھاگ گئے بلکہ ایک نے تو آپ پر لعنت ڈالی اور کہا کہ میں نہیں جانتا مسیح کون ہے۔مگر رسول کریم ﷺ پر کوئی تکلیف کا وقت نہیں آیا جب کہ صحابہ نے اپنے خون نہ بہا دیئے ہوں۔بدر کی جنگ کا جب وقت آیا تو رسول کریم ﷺ نے تمام مہاجرین اور انصار کو اکٹھا کیا اور فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دو کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اس کی ضرورت یہ پیش آئی کہ جب رسول کریم ﷺ مدینہ میں تشریف لائے تو انصار نے آپ سے یہ معاہدہ کیا تھا کہ اگر مدینہ میں آ کر کوئی دشمن حملہ کرے گا تو ہم آپ کی مدد کریں گے لیکن اگر باہر جا کر کسی دشمن سے مقابلہ کرنا پڑا تو ہم اس بات کے پابند نہیں ہوں گے کہ آپ کی ضرور مدد کریں۔اس موقع پر چونکہ ایک ایسی جنگ تھی جس میں مدینہ سے باہر دشمن کا مقابلہ ہونا تھا اس لئے آپ نے سمجھا کہ ممکن ہے انصار کا اس موقع پر اس معاہدہ کی طرف خیال چلا جائے۔پس آپ نے ان کا ارادہ معلوم کرنے کیلئے فرمایا اے لوگو! مجھے مشورہ دواس پر مہاجرین ایک ایک کر کے کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ مشورہ کیا ؟ آپ چلیں اور جنگ