انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 227

انوار العلوم جلد ۱۵ بانی عسلسلہ احمدیہ کوئی نیا دین نہیں لائے پیالہ مجھ سے ٹل جائے۔پس وہ جس نے کہا تھا کہ یہ موت کا پیالہ مجھ سے مل جائے اسے تو خدا آسمان پر اُٹھا لیتا ہے مگر وہ جس نے کہا تھا کہ مجھے چھوڑ دو میں اکیلا دشمن کا مقابلہ کروں گا اسے خدا نے وفات دے دی۔گویا جس نے مردانہ وار کام کیا تھا اسے تو پنشن دیدی۔اور جو میدانِ جنگ سے پیٹھ موڑ کر گھر آ گیا تھا اسے ایکس ٹینشن (EXTENSION) دے دی۔اب دیکھ لو کہ اس عقیدہ کو تسلیم کرنے میں نہ خدا کی عزت ہے اور نہ رسول کریم ﷺ کی عزت۔پھر یہ عقیدہ رکھنے میں حضرت مسیح کی بھی تو کوئی عزت نہیں۔ہمارے نزدیک تو حضرت مسیح علیہ السلام صلیب سے بچ گئے تھے مگر دوسرے مسلمانوں کے نزدیک آسمان پر بھاگ گئے تھے۔اور یہی ایک نبی کی سب سے بڑی توہین ہے کہ جو کام اس کے سپر د تھا وہ تو اُس نے نہ کیا اور آسمان پر جا بیٹھا۔پھر خدا نے تو حضرت مسیح کو نبی قرار دیا ہے مگر مسلمان یہ کہتے ہیں کہ آخری زمانہ میں جب وہ نازل ہوں گے تو نبی نہیں ہوں گے بلکہ امتی ہوں گے گویا جسے خدا نے مستقل نبی قرار دیا تھا اسے وہ تابع نبی بنادیتے ہیں اور اس طرح اس کی ہتک کے مرتکب ہوتے ہیں۔اگر تو یہ کہا جا تا کہ چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام میدان چھوڑ کر چلے گئے تھے اس لئے اس کی سزا میں انہیں امتی بنادیا جائے گا تو گو پھر بھی ایک نبی کی تذلیل ہوتی مگر یہ بات کسی حد تک معقول قرار دی جا سکتی تھی۔لیکن بغیر کوئی قصور بتائے مولویوں کی طرف سے یہ مسئلہ پیش کیا جاتا ہے کہ خدا انہیں مستقل نبی کی بجائے تابع بنی بنادے گا اور اس طرح وہ اپنے عمل سے حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی ہتک کرتے ہیں۔پھر یہ لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ جو شخص بنی اسرائیل میں ایک چھوٹے سے فتنہ کا مقابلہ نہ کر سکا وہ امت محمدیہ میں آکر اس دجالی فتنے کا کس طرح مقابلہ کر سکتا ہے جس فتنہ سے بڑا فتنہ آج تک دنیا میں کوئی ہوا ہی نہیں۔پس اگر حضرت عیسی علیہ السلام کو زندہ آسمان پر سمجھا جائے تو اس میں خدا کی بھی ہتک ہے، حضرت عیسی علیہ السلام کی بھی بہتک ہے اور رسول کریم ہ کی بھی ہتک ہے۔میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کے گھر کا دیا بجھ جائے تو وہ کسی اور کے گھر سے دیا سلائی مانگنے جاتا ہے تا کہ اپنے لیمپ کو روشن کرے۔وہ امیر لوگ جن کے گھروں میں بجلی کے لیمپ ہوتے ہیں وہ شاید اس امر کو نہ سمجھ سکیں لیکن غرباء اس کو خوب سمجھ سکتے ہیں کہ جب ان کے گھر کا لیمپ بجھ جاتا ہے اور دیا سلائی ان کے پاس نہیں ہوتی تو وہ اپنے کسی ہمسائے یا قریبی کے ہاں جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ذرا د یا سلائی دینا میں اپنا لیمپ جلا لوں۔یا ان کے گھر میں لیمپ جل رہا ہو تو اس کی بتی سے اپنے لیمپ کی بتی کو روشن کر لیتے