انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 95

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی انقلاب حقیقی کے قیام میں حضرت ممکن ہے کوئی کہے کہ آپ نے الہامات تو سنا دیئے اور قرآن کریم کی آیات سے بھی مسیح موعود علیہ السلام کا حصہ استدلال کر لیا مگر کیا آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے زیادہ الہامات سمجھتے ہیں یا ان سے زیادہ قرآن جانتے ہیں؟ اور اگر نہیں تو پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیوں اس کی ابتداء نہ کی؟ سواس کا جواب یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے واضح الہاموں میں اس کی ابتدا ء رکھ دی گئی ہے اور بار بار آپ نے اپنی تحریرات میں اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔چنانچہ آپ نے خود فرمایا ہے کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہو جائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہونگے۔اسی طرح کئی الہامات و مکاشفات کے ذریعہ سے آپ نے اپنے اس منصب کو بیان کیا ہے۔پس جب اس کی ابتدا ہو چکی تو ابتدا کیلئے یہ ضروری نہیں ہوتا کہ فورا تکمیل تک پہنچ جائے۔مگر میں کہتا ہوں کہ قرآن کریم کے ایک حکم کے مطابق جو الہام میں بھی آپ پر نازل ہوا۔آپ نے اس کام کو ترتیب کے ساتھ کرنا شروع کیا تھا مگر آپ کی وفات کے بعد وہ رشتہ ترتیب کا ہمارے ہاتھ سے کھویا گیا یا شاید اللہ تعالیٰ کا منشاء خود اس قدر وقفہ دینے کا تھا اور وہ حکم یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔گزرعٍ آخر شطآن فازره فاستغلظ فَاسْتَوَى عَلى سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُرَاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنْهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرًا عظيما ٨ کہ مسیح موعود کے زمانہ میں انقلاب کے چار دور ہونگے۔اوّل اخرج شطان یعنی اصول بیان کئے جائیں گے اور اس وقت ایسی ہی حالت ہوگی جیسے بیج زمین میں سے اپنا سر نکالتا ہے اور وہ حالت نہیں ہوگی جو اسلام کے پہلے دور میں تھی۔اور جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ آئی آمرُ اللهِ یا آتی الله بُنْيَا لَهُمْ 2 بلکہ وہاں ترتیب ہوگی اور تدریجی ترقی ہوگی۔پہلے ایمان کا ایک بیج ہو گا جو قلوب کی زمین میں بویا جائے گا ، پھر وہ پیج آہستہ آہستہ اُگنا شروع ہوگا اور اُس کی بیج کی شکل نہیں رہے گی بلکہ روئیدگی کی شکل ہو جائے گی ، اس کے بعد ترقی کا دوسرا دور آئے گا جسے خدا تعالیٰ نے ازرَہ کے لفظ میں بیان فرمایا ہے کہ اس وقت وہ پودا مضبوط ہو جائے گا اور اجرائے شریعت عملی طور پر کر دیا جائے گا، پھر تیسرا دور اس وقت آئے گا جب اشتغلظ کی پیشگوئی پوری ہوگی یعنی وہ کمزور پودا موٹا ہو جائے گا اور وہی تحریک جو