انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 94

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی آنکھیں ہوں جن سے وہ دیکھے اور اس کا دماغ ہو جس سے وہ سمجھے تو کیا وہ ہم کو دیکھ کر کہہ سکتا ہے کہ ان لوگوں کا آسمان اور ان لوگوں کی زمین اور ہے اور دوسرے لوگوں کا آسمان اور ، اور دوسرے لوگوں کی زمین اور ہے؟ یا وہ کچھ بھی نہیں سمجھے گا اور وہ کہے گا کہ غیر احمد یوں میں سے بھی کچھ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں پڑھتے اسی طرح احمدیوں میں سے بھی کچھ لوگ نمازیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں پڑھتے ان میں بھی بعض کمزور اور بداعمال ہیں اور ان میں بھی بعض کمزور اور بداعمال ہیں اور اگر وہ یہی نتیجہ نکالے تو بتلاؤ وہ کب اس نتیجہ پر پہنچ سکتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا آسمان نیا ہے اور جماعت احمدیہ کی زمین نئی ہے ؟ پس سوچو اور غور کرو کہ ہم نے اس وقت تک کیا کیا ہے؟ ہم نے کچھ مسئلے سمجھ لئے ہیں، کچھ چندے دے دیتے ہیں اور کچھ ذاتی اصلاح کر لیتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ غیر احمدیوں میں اور ہم میں اگر کوئی فرق نکل سکتا ہے تو یہ کہ غیر احمد یوں میں زیادہ لوگ جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں مگر ہم میں کم لوگ جھوٹ بولتے ہیں، ان میں سے اکثر تارک نماز ہوتے ہیں اور ہم میں سے اکثر نمازیں پڑھنے والے ہوتے ہیں لیکن ایک حصہ ہم میں بھی تارک الصلوۃ لوگوں کا ہوتا ہے۔پھر وہ تبلیغ نہیں کرتے اور ہم میں سے اکثر تبلیغ کرتے ہیں ، وہ قرآن بہت کم جانتے ہیں اور ہماری جماعت کے لوگ نسبتا زیادہ قرآن جانتے ہیں لیکن شکل کل وہی ہے، طرز وہی ہے چیز وہی ہے، پس آسمان کس طرح بدل گیا اور زمین کس طرح بدل گئی؟ بلکہ ہماری حالت تو یہ ہے کہ ابھی تک ہم پرانے نظام سے نفرت بھی پیدا نہیں کر سکے۔ابھی تک ہمارے بعض نوجوان مغربیت کے دلدادہ ہیں ، وہ مغربی فیشن کی تقلید میں اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب کو فراموش کئے ہوئے ہیں اور بجائے اس کے کہ ہم دشمن کو مٹا دیتے، اس کی تہذیب کو پارہ پارہ کر دیتے اور اس کے تمدن کی بجائے اسلامی تمدن قائم کر دیتے ، اسی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ ہمارے فلاں آدمی کو جو دشمن چھین کر لے گیا ہے اسے ہم واپس لائیں لیکن ہم جو نہی اسے واپس لاتے ہیں دشمن ہمارے دس آدمی اور چھین کر لے جاتا ہے اور ہماری تمام کوشش اور ہماری تمام سعی پھر اسی کام میں صرف ہو جاتی ہے کہ انہیں دشمن سے واپس لائیں۔پس بجائے دشمن کے تمدن کو مٹانے کے اپنے آدمیوں کو چھڑانے میں ہی ہم لگے رہتے ہیں۔پس ضرورت ہے کہ ہم اس نہایت ہی اہم امر کی طرف توجہ کریں اور دنیا کے تمدن اور دنیا کی تہذیب کو بدل کر اسلامی تمدن اور اسلامی تہذیب اس کی جگہ قائم کریں۔