انوارالعلوم (جلد 15)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 675

انوارالعلوم (جلد 15) — Page 96

انوار العلوم جلد ۱۵ انقلاب حقیقی پہلے معمولی نظر آتی تھی اور دُنیا کے تھوڑے حصہ پر حاوی تھی تمام دنیا پر حاوی ہو جائے گی اور لوگ جوں جوں احمدی بنتے چلے جائیں گے وہ تعلیم بھی سب عالم میں پھیلتی چلی جائے گی۔گویا استغلظ میں انتشار في العالم کی پیشگوئی کی گئی ہے اور پھر چوتھا دور اس وقت آئے گا جب فَاسْتَوى على سوقہ کا نظارہ نظر آنے لگ جائے گا یعنی اسلامی بادشاہتیں قائم ہو جائیں گی اور وہ تھوڑے سے اسلامی مسائل جو خالص اسلامی حکومت سے تعلق رکھتے ہیں وہ بھی عملی رنگ میں جاری ہو جائیں گے اور تمام دنیا کا ایک ہی تمدن ہوگا اور ایک ہی تہذیب۔یہ فاستوى على سوقہ کے الفاظ ایسے ہی ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ اُس نے عرش پر استوی کیا۔پھر فرماتا ہے کہ اسلامی تمدن جو احمدیت کے ذریعہ سے قائم کیا جائے گا اتنا شاندار اور اتنا اعلیٰ ہوگا کہ يُعجب الزراع دوسری قوموں اور تمدنوں کی آنکھیں کھول دے گا اور وہ حیران ہو ہو کر احمدیت کی کھیتی کو دیکھیں گے اور کہیں گے کہ یہ کھیتی تو بڑی اچھی ہے۔یہ وہی بات ہے جو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ رُبما بود الّذينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِيْن او کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی تعلیم کو عملی رنگ میں جب دنیا میں قائم کر دیا تو کئی دفعہ ایسا ہوا کہ کفار نے بھی اپنی مجالس میں کہا کہ ہے تو یہ جھوٹا مگر اس کی تعلیم بڑی اعلیٰ ہے اور ان کے دلوں میں بھی خواہش پیدا ہوئی کہ کاش وہ مسلمان ہوتے۔اسی طرح فرماتا ہے جب احمدیت کے ذریعہ سے اسلامی تمدن تمام دنیا میں قائم کر دیا گیا اور اسلامی حکومتیں اقطار عالم پر چھا گئیں تو يُعْجِبُ الذُراع دوسرے مذہبوں والے کہیں گے کہ اب اس کا مقابلہ نہیں ہو سکتا۔لتغيظُ بِهِمُ الْكُفَّاره مگر جو عـنـيـد اور شدید دشمن ہونگے وہ تو اس انقلاب کو دیکھ کر مر ہی جائیں گے اور کہیں گے کہ اب ہم سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا۔پہلے جن لوگوں کا ذکر تھا وہ ایسے ہیں جن کی فطرت صحیحہ زندہ ہوگی۔وہ اس نظام کی برتری اور فوقیت کا اقرار کریں گے اور کہیں گے کہ کاش ہمیں بھی ایسے نظام میں شامل ہونے کا موقع ملتا۔مگر جو شدید دشمن ہونگے وہ ہاتھ کاٹنے لگیں گے اور کہیں گے کہ اب ہماری فتح کی کوئی صورت نہیں۔پس مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں پہلا دور تھا کہ پنیری نکل رہی تھی مگر اب وقت آ گیا ہے کہ دوسرا دور شروع ہوتا کہ اُن لوگوں کی موجودگی میں جنہوں نے نور نبوت سے براہ راست حصہ لیا ہے یہ کام مکمل ہو جائے۔اگر یہ کام آج نہ ہوا تو پھر کبھی بھی نہیں ہو سکے گا۔