انوارالعلوم (جلد 14) — Page 55
انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ جائیں اور دونوں فریق کو ایک ایک نقل اس کی فوراً دے دی جائے تاکہ بعد میں اس فیصلہ کو شائع کیا جا سکے۔برادران ! میں اس بارہ میں جو کچھ کر سکتا تھا وہ میں نے کر دیا ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے خوف کو دل میں رکھ کر انصاف سے کام لیں گے اور احرار کی اس دھوکا دہی کا ازالہ کریں گے کہ وہ لوگوں کو یہ کہتے پھرتے ہیں کہ احمدی مباہلہ سے گریز کرتے ہیں جو بالکل جھوٹ اور غلط ہے۔ہم اب بھی مباہلہ کے لئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ پہلے دونوں فریق کے نمائندے آپس میں تحریری طور پر شرائط طے کر لیں۔اور مجلس مباہلہ کے لئے ایک مسلّمہ فریقین صدر مقرر ہو جاوے جو اس امر کا ذمہ وار ہو کہ مسلّمہ فریقین شرائط کی پابندی کی جائے گی اور مباہلہ لاہور یا کسی ایسے مقام پر جو طرفین کے لئے پر امن اور مناسب ہو وقوع میں آ جائے۔لیکن اگر اب بھی احرار کو قادیان میں مباہلہ ہونے پر اصرار ہو تو پھر اس صورت میں انہیں چاہئے کہ میری شائع کردہ شرائط کے ماتحت سمجھوتہ کر لیں۔اس صورت میں ہم ان کے ساتھ مل کر حکومت کو لکھ دیں گے کہ مباہلہ قادیان میں دونوں فریق کی ذمہ واری پر ہوگا اور کسی قسم کی بدنظمی کا خطرہ نہ ہو گا۔اور اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو آؤ یوں کر لیں کہ فریقین مباہلہ کے الفاظ کی تعیین کرلیں اور دونوں فریق اپنے اپنے الفاظ پر دستخط کر کے ایک دوسرے کو دے دیں تا کہ رسالہ کی صورت میں اسے شائع کر دیا جائے۔آخر مباہلہ کی دعا خواہ تحریر میں آئے یا زبانی کی جائے ایک سا اثر رکھتی ہے۔اور خدا تعالیٰ جس طرح منہ کی باتیں سنتا ہے قلم کی تحریر سے بھی آگاہ ہوتا ہے لیکن اگر ان سب باتوں کے باوجود احرار مباہلہ پر تیار نہ ہوں لیکن غلط بیانی سے کام لیتے چلے جاویں تو انہیں یا د رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور میں غلط بیانیوں کا نکھار ہوکر رہے گا۔ان کی غلط بیانیاں چند دن تک انہیں نفع دے سکتی ہیں مگر ہمیشہ کے لئے نہیں۔بعض لوگ جوش کی حالت میں اگر ان کے فریب میں آ بھی جائیں تو بے شک آ جائیں مگر صداقت آخر غالب آ کر رہے گی۔اور جلد یا بدیر دنیا پر کھل جائے گا کہ یہ سب کارروائی احرار نے شہید گنج کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے کی تھی۔ایک زندہ اور خبر دار خدا کے ہاتھ میں ہماری قسمتیں ہیں وہ اس جھوٹ کو کبھی سرسبز نہیں ہونے دے گا۔وہ اس دھوکا کو قائم نہیں رہنے دے گا۔اس مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ خدا کے پاس ہماری اپیل ہے کہ وہ احرار کے اس افتراء کی قلعی کھول دے اور مسلمانوں کو سمجھ دے کہ ان کے اس فریب میں نہ آئیں اور بے گناہوں کو بے وجہ ہدف ملامت