انوارالعلوم (جلد 14) — Page 54
انوار العلوم جلد ۱۴ کیا احرار واقع میں مباہلہ کرنا چاہتے ہیں؟ قادیان آنے کا ارادہ نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے مجھے مجبور کیا کہ میں قادیان میں مباہلہ کروں۔چنانچہ ۲۔اکتوبر ۱۹۳۵ء کے مجاہد میں مظہر علی صاحب اظہر کی جو تقریر شائع ہوئی ہے اس کا عنوان یہ ہے۔مرزا محمود کی دعوت مباہلہ کا کیفیت موت طاری کر دینے والا جواب مباہلہ قادیان میں ہونا چاہئے۔مرد ہو تو بال بچوں سمیت میدان میں نکل آؤ۔“ پھر اصل اعلان میں یہ فقرہ درج ہے۔”ہم مرزا محمود کو کوئی موقع نہیں دینگے کہ وہ مباہلہ سے پہلو تہی کر سکے ہاں یہ ضرور ہو گا کہ مباہلہ قادیان میں ہو۔“ ( مجاہد۔اکتوبر ۱۹۳۵ء ) اس عبارت سے صاف ظاہر ہے کہ میرے مجبور کرنے پر انہوں نے قادیان آنا منظور نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنی طرف سے یہ شرط لگائی کہ وہ صرف قادیان میں مباہلہ کر سکتے ہیں باہر نہیں۔اس کے بعد احرار کا حکومت کو یہ لکھنا کہ ہم تو قادیان نہ جاتے تھے مرزا محمود نے ہمیں مجبور کر کے قادیان بلایا ہے، کیا کسی عقلمند انسان کے نزدیک بھی درست ہوسکتا ہے؟ اور کیا یہ فعل دیانت داری کا فعل سمجھا جا سکتا ہے؟ میں مذکورہ بالا دونوں امور کے لئے بھی سو سو روپیہ مزید انعام مقرر کرتا ہوں کہ:۔(۱) اگر میرے اعلانات سے یہ نتیجہ نکل سکے کہ میں نے مباہلہ کا چیلنج اس لئے دیا تھا کہ احرار کو قادیان آنے کی ممانعت تھی یا (۲) یہ ثابت ہو جائے کہ احرار تو قادیان آنے کو تیار نہ تھے مگر میں نے انہیں مجبور کیا کہ وہ ضرور قادیان آ کر ہی مباہلہ کریں تو سو سو روپیہ مزید انعام ان دونوں باتوں کے ثابت ہونے پر مجلس احرار کو جماعت احمدیہ کی طرف سے دیا جائے گا اور اس انعام کے تصفیہ کے لئے بھی میں مذکورہ بالا شرائط اور مذکورہ بالا ثالثوں میں سے کسی ایک کو پیش کرتا ہوں۔کیا میں امید کروں کہ مجلس احراران امور کے لئے مذکورہ بالا شرائط کے ماتحت مذکورہ بالا لوگوں میں سے کسی ایک سے فیصلہ کرانے کو تیار ہوگی؟ یہ لوگ سب کے سب غیر احمدی ہیں اور احرار کے ہم مذہب ہیں اور مسلمانوں کے مسلّمہ لیڈر ہیں اور ان میں سے کسی ایک کی نسبت بھی یہ شبہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ احرار کے مقابل پر میری رعایت کریں گے بلکہ ہر انصاف پسند تسلیم کرے گا کہ میں نے گویا خود احرار کے اپنے ہم مذہبوں کے سپرد، ان امور کا فیصلہ کر دیا ہے مگر اس فیصلہ کے لئے یہ شرط ہوگی کہ تحریری صورت میں با دلائل دیا جائے اور دونوں فریق کے دلائل کو نقل کر کے وجوہ فیصلہ لکھی