انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 9

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھا ئیں گے تھے۔اس سال دو لاکھ کہہ رہے ہیں، معلوم نہیں کس قدر لوگ آتے ہیں۔گزشتہ جلسہ کے بعد ہمیں بتایا گیا تھا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ احراریوں کا جلسہ محض فتنہ کیلئے تھا اور آئندہ ایسی غلطی نہ ہونے پائے گی لیکن واقعات بتا رہے ہیں کہ وہ وعدے فراموش کئے جانے والے ہیں۔بانی سلسلہ احمدیہ علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف جماعت احمدیہ کے مرکز میں پھر گند اُچھالا جانے والا ہے لیکن ہم حکومت کو کوئی مشورہ نہیں دے سکتے ، اس لئے کہ وہ اپنی طاقت پر نازاں ہے لیکن اس سے اوپر ایک اور حکومت ہے اور میں آپ لوگوں سے یہی کہتا ہوں کہ اس کے سامنے جا کر اپیل کرو۔اے خدا! تیرے مقدس! مامور و مُرسل کے خلاف گندا چھالا جا رہا ہے اور جس حکومت کے ہاتھ میں انصاف کی باگ ہے وہ ہمیں انصاف دینا نہیں چاہتی تو ہمارے لئے خود امن پیدا کر کہ تیرا وعدہ ہے اس بستی کو امن دیا جائے گا۔اس بات سے مت گھبراؤ کہ تمہاری ایک سال کی دعاؤں کے باوجود یہ فتنہ ابھی تک نہیں مٹا۔رسول کریم ﷺ مکہ میں تیرہ سال دعائیں کرتے رہے ، تب مدینہ میں اُن کا نتیجہ ظاہر ہوا۔اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی کمزوری کو دیکھ کر ہو سکتا ہے کہ جلد ہی نتیجہ نکال دے لیکن اس کی طرف سے دعاؤں کی قبولیت حکمتوں کے ماتحت ہوتی ہے۔پس میں آج پھر یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اکتوبر کا مہینہ نزدیک آ رہا ہے ، پھر آوازیں آ رہی ہیں کہ قادیان میں لاکھوں آدمی جمع ہونگے ، پھر یہاں جلسہ کیا جانے والا ہے جس میں بقول ان کے فرعونی تخت اُلٹا جائے گا ، پھر نا پاک الفاظ بولے جائیں گے اور ہمارے دل گواہی دیتے ہیں کہ پھر ویسے ہی حکام ان پر پردہ ڈالیں گے، پھر ہمیں قید کیا جائے گا اور جلسہ میں شمولیت سے روکا جائے گا ، پھر ہمیں گلیوں میں پھرنے سے روک دیا جائے گا۔وہی کچھ جو ۱۹۳۴ ء میں ہوا پھر ۱۹۳۵ء میں ہونے والا ہے اور اسے صرف وہی خدا روک سکتا ہے جس نے اصحاب الفیل کو روکا تھا۔پس جماعت کو اسی خدا سے اپیل کرنی چاہیے کہ جس نے قرآن میں سورۃ فیل نازل کی اور اسی واسطے اس نے اسے اُتارا کہ آئندہ زمانہ میں بھی ایسے حالات پیش آنے والے تھے۔جنگ عظیم کے زمانہ میں جب ٹرکی لڑائی میں شامل ہوا اور بعض حکومتوں نے تجویز کیا کہ عرب پر حملہ کیا جائے تو یہ خبر سنتے ہی میں نے مغرب کی نماز میں سورۃ فیل اس لئے پڑھنی شروع کر دی کہ خدا تعالیٰ مکہ کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے۔آج اس پر میں سال کے قریب گزر چکے ہیں اور میں بغیر ایک ناغہ کے یہ دعا کرتا رہا ہوں مگر وہ احراری جنہوں نے شاید ایک دن بھی یہ دعا نہ کی ہو اور یہ محسوس تک نہ کیا ہو، وہ کہتے ہیں کہ احمدی اگر موقع ملے تو مکہ کو بھی بیچ دیں گے۔کیا ہی عجیب بات ہے کہ