انوارالعلوم (جلد 14) — Page 8
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے ہے۔اور میجار ٹی MAJORITY) کا مقابلہ کب کر سکتی ہے مگر جب ہم نے مقابلہ کیا تو اب سمجھ چکے ہیں کہ یہ جماعت آسانی سے ٹوٹنے والی نہیں۔ایک شخص نے مجھ سے بیان کیا ایک ذمہ دار افسر نے اس سے کہا کہ گو یہ بات ثابت کر دی گئی ہے کہ احمدی جماعت پر جو الزام لگائے جاتے تھے ، وہ صحیح نہیں ہیں مگر یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ اگر اس جماعت کو ڈرایا جائے تو ڈرتی نہیں بلکہ ظلم کو نا پسند کرتی ہے۔گویا ان کے نزدیک اطاعت کا مفہوم یہ ہے کہ افسر اگر بُوٹ کی ٹھوکر ماریں تو انسان اسے چاٹنے لگ جائے لیکن میں ایسے افسروں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جماعت احمدیہ نے اطاعت کا یہ مفہوم کبھی سیکھا ہی نہیں۔جماعت احمد یہ ملک معظم اور ان کے نمائندوں کی وفادار ہے لیکن ہر احمدی جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام یا آپ کے خلفاء کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ خدا کا سپاہی ہے اور خدا کا سپاہی نا واجب طور پر کسی کے سامنے نہیں جھک سکتا خواہ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے۔ہر وہ شخص جو جماعت احمدیہ میں داخل ہوتا ہے بہادری کا امتحان پاس کرتا ہے اور کسی سے خوف نہیں کھا سکتا۔جس کا دل خائف ہے ، وہ احمدی نہیں اس لئے جماعت احمد یہ کبھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہوگی کہ نا واجب سختیوں کو برداشت کرے اور پروٹسٹ نہ کرے کہ یہ خلاف قانون ہیں۔بہر حال بعض وہ افسر جن کے ارادے نیک نہ تھے، اُن کو معلوم ہو گیا کہ اُن کی کھلی کھلی دھمکیاں کام نہیں دے سکتیں ، اس لئے کوئی اور ذرائع اختیار کرنے چاہئیں۔چنانچہ اب انہوں نے خفیہ کوششیں شروع کر دی ہیں۔ایک افسر نے ہمارے ایک دوست سے کہا کہ ہم نے قادیان میں ۳۲۔احمدیوں کو خرید لیا ہے۔ہم تو حکومت کے خلاف کوئی خفیہ کا رروائیاں کرتے ہی نہیں اسی واسطے ایک شریف انگریز افسر نے کہا تھا کہ میں تو یہ سمجھ بھی نہیں سکتا کہ قادیان میں جاسوس رکھنے کی کوئی ضرورت ہے۔آپ لوگ تو جو کچھ کہتے ہیں ، علی الاعلان کہتے ہیں اور پھر اسے اخباروں میں شائع کراتے ہیں۔حقیقت یہی ہے بلکہ اگر کوئی شخص ہم میں رہ کر غور کرے تو ہماری پرائیویٹ گفتگو زیادہ نرم ہوتی ہے۔یہ نسبت اس کے جو ہم پبلک میں کرتے ہیں۔سٹیج پر تو ہم نے چیلنج کا جواب دینا ہوتا ہے مگر پرائیویٹ گفتگو میں ہمارے پرانے تأثرات عود کر آتے ہیں اور پرانی لغات زبان پر پھر جاری ہو جاتی ہیں۔حکومت کی طرح احرار نے بھی معلوم کر لیا ہے کہ قادیان کے قریب ایک جلسہ کر کے وہ ہمیں مرعوب نہیں کر سکتے ، اس لئے انہوں نے پھر ایک جلسہ کا اعلان کیا ہے اور کہہ رہے ہیں کہ امسال دو لاکھ آدمی آئیں گے۔پچھلے سال ایک لاکھ کہتے تھے اور پانچ ہزار آئے