انوارالعلوم (جلد 14) — Page 10
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے میں جو ہیں سال سے برابر دعائیں کر رہا ہوں، ہمارے متعلق تو یہ کہا جاتا ہے کہ یہ مکہ مدینہ کا احترام نہیں کرتے لیکن وہ لوگ جنہوں نے کبھی ایک دن بھی دعا نہیں کی بلکہ اس کا احساس بھی نہیں کیا وہ اعتراض کرنے والے ہیں۔بہر حال اس قسم کے واقعات خواہ وہ حقیقی مکہ کے متعلق ہوں خواہ مجازی کے متعلق ضرور ہونے والے تھے اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ سورۃ نازل کی۔تم لوگ عجز سے اسے پڑھو تا خدا تعالیٰ جس کے ہاتھوں میں سب کی جانیں ہیں ہمارے دشمنوں کو روکے اور اس فتنہ سے بچائے جس سے بچنے کی ہم میں طاقت نہیں۔سات ماہ کا عرصہ ہو چکا ہے اس عرصہ میں کئی جھگڑے ہمارے ساتھ کئے گئے ، ہماری عورتوں کی بے حرمتیاں کی گئیں مگر کوئی ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کی جاسکتی کہ ہماری فریا دسنی گئی اور اس پر کوئی توجہ کی گئی ہو۔ہمارے مرکز میں ایک احمدی عورت کی ایک سپاہی نے بے حرمتی کی اور جب ہم نے رپورٹ کی تو سنا گیا ہے کہ افسران نے اس پر یہ لکھا کہ سپاہی کو احمدیوں نے دق کیا تھا قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے انہوں نے یہ کہانی بنالی ہے۔گویا ہم لوگ ایسے ہیں کہ ایک معمولی گرفت سے بچنے کے لئے ایسی کہانیاں بنا سکتے ہیں۔اسی طرح درجنوں واقعات ہیں مگر ایک میں بھی ہمیں سچا نہیں سمجھا گیا اور یہ سب کچھ اس عدل کی عادت کے باوجود ہو رہا ہے جو انگریزوں کی قوم میں پائی جاتی ہے۔پس اس کا مطلب یہی ہے کہ اس قدر لوگ ہمارے خلاف ہیں کہ انگریز کوصداقت معلوم کرنے کا موقع نہیں مل سکتا اور ہمارے اور انگریزی انصاف کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیا گیا ہے۔جب ایک ہی قسم کی دس ہیں رپورٹیں پہنچیں تو صداقت کا مشتبہ ہو جانا ناممکن نہیں۔پس ان حالات سے یہ بات ثابت ہے کہ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ فتنہ کمزور ہو گیا ہے ، وہ غلطی پر ہیں۔پہلے یہ ایسی شکل میں تھا کہ ہم ثابت کر سکتے تھے کہ ہم پر ظلم ہو رہا ہے اور قانون شکنی کی جا رہی ہے۔مگر اب ایسی روش اختیار کی جا رہی ہے کہ مصیبتیں تو قائم رہیں لیکن ہم بالصراحت یہ ثابت نہ کر سکیں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔اب قادیان میں ایسی گالیاں نہیں دی جاتیں بلکہ باہر جا کر دی جاتی ہیں۔صرف اس لئے کہ یہاں منصوبے زیادہ مضبوطی سے کئے جاسکیں اور بالا افسر ہمارے مخالف افسروں کے کارناموں سے واقف ہو کر دخل دینے پر مجبور نہ ہو جائیں۔ماتحت افسر اس بات سے ضرور ڈر جاتے ہیں کہ ایک حد کے بعد اوپر والے افسر ضرور پکڑیں گے کہ کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی اس لئے اب ہر امر کو مخفی کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ہمیں کہا گیا تھا کہ پچھلی باتوں کو بھول جاؤ مگر ہم کیا کریں ہمیں بھولنے نہیں دیا جاتا۔ایک