انوارالعلوم (جلد 14) — Page 419
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ انکے رشتہ داروں تک کو انہیں باخبر رکھنے سے روکتے تھے۔غالبا اُس وقت بھی ان کے مد نظر یہ سکیم تھی کہ اس خاندان کو بدظن کر کے اپنی سکیم میں شامل کریں جواب آ کر ظاہر ہوئی ہے۔ان لوگوں کی نظریں صرف دُنیا پر پڑ رہی تھیں اور یہ نہیں جانتے تھے کہ خدا تعالے کے کام روپیہ سے نہیں بلکہ اخلاص سے ہوتے ہیں جن کا ان میں فقدان تھا اور ہے۔یہ تو وہ کارروائی ڈاکٹر احسان علی کے ہاں سے دوائیاں منگانے کی ممانعت تھی جو سلسلہ کا امیر ہونے کے لحاظ سے اس بارہ میں میں نے کی مگر ذاتی طور پر جو کچھ میں نے۔کیا اس کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر احسان علی اپنے بھائی کی جو چوری کا مرتکب ہے مدد کرتے ہیں تو میں نے اپنی چاروں بیویوں سے کہا کہ ڈاکٹر احسان علی ایک ملزم کی مدد کرتے ہیں اس لئے آئندہ ان کے ہاں سے کوئی دوائی نہ آئے سوائے اس کے کہ ضروری ہوا اور کسی دکاندار کے ہاں سے نہ مل سکتی ہو اور اگر تم میں سے کسی نے اس کے خلاف کیا تو اُس دوائی کی قیمت میں ادا نہیں کروں گا۔چنانچہ ہمارے گھر میں اس پر عمل ہوتا رہا اور میرے ذاتی رجسٹر کے ریکارڈ بتا سکتے ہیں کہ ادویہ جو ہمارے گھر آئیں یا بھائی محمود احمد صاحب کے ہاں سے آئیں یا پھر لاہور سے براہ راست منگوائی گئیں۔سوائے اس کے کہ دوا اور دکانداروں سے میسر نہ آئی اور اس کی فوری اور اشد ضرورت تھی۔اور میں اس ہدایت کے بعد تحقیق بھی کرتا رہا کہ اس پر عمل ہوتا رہا اور بعض دفعہ میں نے اپنی بیویوں کے پاس وہ رقعے دیکھے جن میں دوسرے دکانداروں نے لکھا ہے کہ یہ دوا ہمارے پاس نہیں ہے تب وہ ڈاکٹر احسان علی کے ہاں سے خریدی گئی۔گویا ان لوگوں کی تائید میں میں نے خود مالی نقصان بھی اُٹھایا کیونکہ لا ہور سے ادویہ کا منگوانا مہنگا پڑتا ہے اور خرچ زیادہ ہو جاتا ہے مگر یہ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ میں نے دوسرے فریق کی رعایت کی۔یہ بدظنی کی انتہاء ہے اور ایسی بدظنی اور ایمان کبھی اکٹھے نہیں رہ سکتے۔لیکن یہ اس قدر بدظنی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم شدید ظلم دیکھتے ہوئے بھی ایمان پر قائم رہے آپ لوگ ان ظلموں کو بھی دیکھ لیں جو میں نے ان پر کئے اور ان کے ایمانوں کا بھی اندازہ لگائیں جو ان کے دل میں تھا۔اگر یہ ایمان تھا تو نہ معلوم بے ایمانی کس کو کہتے ہیں۔