انوارالعلوم (جلد 14) — Page 420
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اب میں پھر حافظ بشیر احمد کی ملاقات کی مرزا عبدالحق صاحب کی رائے طرف آتا ہوں میں نے ذکر کیا تھا کہ انہوں نے کہا کہ میرے والد یا کہا کہ میاں فخر الدین صاحب نے مرزا عبدالحق صاحب سے پوچھا تھا اور انہوں نے کہا ہے کہ دورانِ تفتیش میں ہی ڈاکٹر احسان علی وغیرہ کے خلاف کارروائی کی جاسکتی ہے۔میں نے اس پر شیخ بشیر احمد صاحب کو دوبارہ کہا کہ آپ مرزا صاحب سے بات کر کے مجھے اطلاع دیں کہ ان کی یہ رائے کس بناء پر ہے۔شیخ صاحب نے ان سے گفتگو کر کے مجھے یہ جواب دیا کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے مجھ سے ایسا ذکر تک نہیں ہوا اور اگر کوئی ذکر ہوا ہوگا تو میں نے ایسا مشورہ نہیں دیا ہوگا کیونکہ میرے نزدیک بھی موجودہ حالات میں ایسا کرنا خلاف مصلحت ہوگا۔میں نے شیخ صاحب سے کہا کہ آپ مرزا صاحب سے تحریری رپورٹ لے کر مجھے دیدیں ورنہ ان لوگوں کی تسلی نہ ہوگی۔چنانچہ انہوں نے مندرجہ ذیل تحریر مجھے بھجوائی۔برادرم محترم ! السَّلامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ آپ کا خط ملا۔یہ درست ہے کہ آپ نے عبدالمنان کے مقدمہ کے دوران یہ ذکر کیا تھا کہ فخر الدین صاحب ملتانی نے میری طرف یہ منسوب کیا ہے کہ میں نے یہ رائے دی ہے کہ اگر جماعت عبدالمنان برادر شیخ احسان علی صاحب کے خلاف مقدمہ کے دوران شیخ احسان علی صاحب کے خلاف اس بناء پر کارروائی کرے کہ وہ اپنے بھائی کو مجرم جانتے ہوئے اس کی صفائی کے لئے کوشش کر رہے ہیں تو جماعت کا ایسا فعل قانونا جائز ہوگا اور ایسا کرنا مناسب ہوگا۔اور آپ نے مجھ سے یہ دریافت کیا تھا کہ کیا واقعی میں نے کوئی ایسی رائے دی ہے۔اس کے جواب میں میں نے یہ عرض کیا تھا کہ میں نے کوئی ایسی رائے فخر الدین صاحب یا کسی اور صاحب کو نہیں دی اور نہ ہی یہ میری رائے ہے، بلکہ میرا آپ کی رائے کے ساتھ اتفاق تھا کہ دورانِ تجویز مقدمہ جماعت کو شیخ احسان علی صاحب کے خلاف کوئی قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔کیونکہ یہ کارروائی مقدمہ پر اثر انداز ہوسکتی ہے جو مناسب نہیں۔" خاکسار عبد الحق ۱۲۔۶۔۱۹۳۷ء