انوارالعلوم (جلد 14) — Page 418
انوار العلوم جلد ۱۴ جماعت احمدیہ کے خلاف میاں فخر الدین ملتانی کا حصہ اور باپ ہے کہ چٹھی کا جواب تک نہیں دیتا بلکہ مجھے یہاں تک کہا گیا کہ آپ غلط کہتے ہیں کہ شکایت نہیں کی گئی۔بے شک سلسلہ ایسے معاملات میں دخل دیا کرتا ہے مگر اُس کے لئے جو نظام سلسلہ کا احترم کرتا ہو اور اُس وقت جب الزام کی نوعیت معلوم ہو مگر یہاں تو دونوں باتیں نہ تھیں۔بعض الزام تک معلوم نہ تھے اور پھر سلسلہ کی گھلی گھلی ہتک کی جارہی تھی۔میں جانتا ہوں کہ اگر میں اس وقت رحم کر کے سلسلہ کو بطور خود کارروائی کا حکم دے دیتا تو ان لوگوں نے ان گستاخیوں کے بعد یہ کہنا تھا کہ دیکھا ہم نے انہیں کس طرح دبا لیا۔اسی ضمن میں اہلیہ ڈاکٹر فضل الدین صاحب جن کے گھر چوری ہوئی تھی ایک اور واقعہ اُن کی ہمشیرہ نے میرے گھر کے لوگوں کو ایک واقعہ یاد دلایا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ میں ایک دفعہ اپنی ہمشیرہ سے ملنے گئی تو انہوں نے شکایت کی کہ چوری ہمارے گھر ہوئی اور ہمدردی چوروں کی کی جاتی ہے۔(اس سے بھی ان لوگوں کے پراپیگنڈا کا علم ہوتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ اتفاقا میں آپ کے گھر اس سے پہلے آئی تھی اور میں نے سنا کہ ڈاکٹر احسان علی کی والدہ حضرت صاحب سے شکایت کر رہی تھیں کہ عبدالمنان پر اس اس طرح سختی ہو رہی ہے۔تو حضرت صاحب نے بڑے جوش سے اُن کو جواب دیا کہ کیا آپ چاہتی ہیں کہ میں چوروں اور ڈاکوں کی مدد کروں؟ میں چوروں اور ڈاکوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتا۔تو جب میری ہمشیرہ نے ایسا کہا تو میں نے اس سے کہا کہ بہن یہ الزام غلط ہے، اتفاق کی بات ہے کہ میں اس واقعہ کے موقع پر پھر ان کے گھر جا پہنچی اور میں نے اپنے کانوں سے یہ باتیں سنیں۔وہ تمہاری اس طرح ہمدردی کریں اور تم اس طرح شکوہ کرو یہ ٹھیک نہیں۔اہلیہ ڈاکٹر فضل الدین صاحب کی سنگی اور بڑی ہمشیرہ کی یہ روایت ہے جو چوہدری حاکم علی صاحب سفید پوش کی اہلیہ ہیں۔انہی کا یہ بیان بھی ہے کہ چوری کے سلسلہ میں کوئی بات ان کے خاوند چوہدری حاکم علی صاحب کو معلوم ہوئی تو وہ اپنی سالی کے پاس گئے اور کہا کہ مجھے ڈاکٹر احسان علی اس اس طرح کہتا ہے، اگر ایسا ہو جاتا تو اچھا تھا۔انہوں نے جواب دیا کہ اس بارہ میں مجھے تو کوئی علم نہیں دیا گیا۔اس کے بعد مصری صاحب ان سے ملے اور ناراض ہوئے کہ آپ اپنی سالی کے پاس گئے کیوں تھے ؟ آپ نے ہم سے بات کرنی تھی۔انہوں نے جواب دیا کہ میری رشتہ داری انہی سے تھی اس لئے میں ان کے پاس گیا۔اگر اس روایت میں کوئی غلط نہی نہیں تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں نے اہلیہ ڈاکٹر فضل الدین صاحب کا کس قد را حاطہ کیا ہوا تھا اور کس طرح