انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 3

انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے مذہب اجازت نہیں دیتا ہم کو یہ موقع دیا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ہم اس دن جس دن کہ اس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے پاس بلا لیا اور آپ کے کام کا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈالا، ہم سے اس اقرار کی تجدید کرائے کہ دنیا مخالفتوں ، عداوتوں اور عناد میں خواہ کتنی بڑھ جائے، ایک سچا احمدی اپنا فرض سمجھے گا کہ ہر قربانی کر کے اس مقصد کو پورا کرے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ہمارے سامنے رکھا ہے۔ہم اس دن کو نہیں بھول سکتے جو ہماری خوشیوں کا آخری دن تھا جس سے پہلے دن کی شام تک ہم یہ خیال بھی نہیں کر سکتے تھے کہ رنج و غم کا کوئی دن بھی ہم پر آسکتا ہے۔اُس دن جب ہم نے عشاء کی نماز پڑھی تو ہمارے دل خوش تھے کہ خدا تعالیٰ کا تازہ کلام سنے کا ہمیں ہر صبح موقع ملتا ہے جس کی ہدایت میں ہم آگے قدم اُٹھاتے ہیں۔جس دن کہ ہم رات کو جب سوئے تو دنیا ہمارے لئے ابتدائے آفرینش کا منظر پیش کرتی تھی لیکن جب جاگے تو قیامت کا منظر ہمارے سامنے تھا۔خدا کا مسیح اس صورت میں ہم سے جُدا ہوا کہ ہم رات کو یہ خوشی اپنے قلوب میں لے کر سوئے تھے کہ صبح خدا کا تازہ کلام سنیں گے لیکن صبح نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ وہ پیغام جس کے سننے کے لئے تیرہ سو سال سے بڑے بڑے بزرگ متمنی چلے آئے تھے، اُس کا دروازہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا گیا۔وہ ۲۶۔مئی کا ہی دن تھا کہ جس دن دنیا کی لذتیں ہمارے لئے کوفت کا موجب بن گئیں ، جس دن کہ ہم میں سے ہر ایک حسان بن کر مثیل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کہہ رہا تھا کہ:۔نتَ السَّوَادَ لِــــــــاظــــرى ميَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ شَاءَ بَعْـدَكَ فَلْيَـمُـتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أُحَاذِرا تو میری آنکھوں کی پتلی تھا اور آج میری آنکھوں کی بینائی جاتی رہی۔اب تیرے بعد جو چاہے، مرے۔مجھے تو صرف تیری ہی موت کا خطرہ تھا۔آج وہی تاریخ اور وہی مہینہ ہے اور یہ دن ہمیں اُن مقدس فرائض کی یاد دلاتا ہے جن کا پورا کرنا انسان کو قرب الہی کے بہترین مقام پر پہنچا دیتا ہے اور ہمارے دلوں میں پھر ایک اُمنگ پیدا کرتا ہے اور ہر احمدی اُس آواز کو جس نے بتایا تھا کہ خدا کی طرف سے تمہارے لئے ترقیات کے جو وعدے ہیں اور قدرت ثانیہ کا ظہور میرے بعد ہوگا ، آج بھی سن رہا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام