انوارالعلوم (جلد 14) — Page 4
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے کی طرح حضرت مسیح ثانی علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی پیغام دیا تھا کہ تمہارے لئے ترقیات کے جو وعدے ہیں وہ زیادہ تر میرے بعد پورے ہوں گے اور اُن وجودوں کے ذریعہ پورے ہونگے جنہیں اللہ تعالیٰ قدرت ثانیہ کا مظہر قرار دے گا۔پس ہر احمدی پر جو منافق نہیں یہ دن نہیں گزرسکتا جب تک اسے اس کی ذمہ داری یاد نہ دلا دے اور یہ آواز اس کے کانوں میں نہ گونجے کہ اسلام کی ترقی چاہتی ہے کہ میں تم سے جدا ہو جاؤں اور خدمت اسلام کا کام تمہارے کندھوں پر پڑے۔جس دن یہ اعلان شائع ہوا ، اس پر آج ۲۹ برس گزر چکے ہیں اور جس وقت یہ وعدہ پورا ہونا شروع ہوا اس پر بھی ۲۷ سال گزرچکے ہیں اس عرصہ میں ہم نے اپنی ذمہ داریوں کو کس طرح ادا کیا ؟ اس کا جواب وہ ترقی نہیں جو اس عرصہ میں سلسلہ کو حاصل ہوئی اس لئے کہ یہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوئی ، ہم میں سے کون کہہ سکتا ہے کہ سلسلہ کا پھیلنا میری وجہ سے ہے اور اسے جو عظمت حاصل ہوئی ہے وہ میری تبلیغ کا نتیجہ ہے۔سلسلہ احمدیہ کو مجموعی لحاظ سے جو ترقی حاصل ہوئی ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے فضل اور رحمت سے ہوئی ہے اور اس میں کسی بندہ کا کوئی دخل نہیں۔پس اس سوال کا جواب ہم میں سے ہر شخص کا دل ہی دے سکتا ہے اور ہم میں سے ہر ایک کو چاہئے کہ اپنے دل سے پوچھے کہ سلسلہ کی اس ترقی میں اس کا کتنا دخل ہے۔اور اس پیشگوئی کو پورا کرنے اور اس ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے اس نے کیا کوشش کی ہے۔اگر تو اس کے دل کا جواب خوشکن ہو تو وہ خوش ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے مال و جان قربان کر دینے کا جو وعدہ کیا تھا ، وہ پورا ہو رہا ہے لیکن اگر اس کا دل خوشکن جواب نہ دے اور اسے شرمندہ کرے کہ اس عرصہ میں اسے خدمت دین کا موقع نہیں ملا تو اس کے لئے حسرت ہے۔کاش! ایسا انسان پیدا ہی نہ ہوا ہوتا اور دنیا کی زندگی اسے حاصل نہ ہوئی ہوتی۔کچھ اوقات اس دوران میں ایسے بھی آئے ہیں جو نہایت خطر ناک تھے اور جن میں خصوصیت سے جماعت کا امتحان لیا گیا ہے اور باوجود اس اقرار کے کہ ہم میں کمزوریاں ہیں اور کہ ابھی ہمیں بہت سی مزید قربانیوں کی ضرورت ہے، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ان امتحانوں میں اکثر دوست کامیاب ہوئے ہیں۔ایک ابتلاء تو اُس وقت آیا جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے۔اُس وقت کئی لوگ کہتے پھرتے تھے کہ وہ وعدے کہاں گئے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے تھے ، ابھی تو جماعت ابتدائی حالت میں ہے اور خدا کا مسیح ہم سے جدا ہو گیا ، وہ چہرے