انوارالعلوم (جلد 14) — Page 2
انوار العلوم جلد ۱۴ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہر گز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ احرار اور منافقین کے مقابلہ میں ہم ہرگز کوئی کمزوری نہیں دکھائیں گے حکام کے ہاتھوں سلسلہ کی بے عزتی قطعا گوارا نہیں کی جائے گی تقریر فرموده ۲۶ مئی ۱۹۳۵ء بمقام قادیان ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔کوئی تین ماہ کا عرصہ گزرا میں ایک سفر پر جا رہا تھا کہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ نے یہ خیال ڈالا کہ تحریک جدید کے متعلق جو امور میں نے بیان کئے ہیں وہ جماعت کے سامنے اُس وقت تک کہ مشیت الہی ہمیں کامیاب کر دے ہر چھٹے ماہ دُہرائے جانے چاہئیں۔اس کے ساتھ ہی مجھے یہ خیال آیا کہ اس کے لئے پہلا دن اگر وہ دن ہو جس دن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہوئے تھے تو یہ گویا ہمارے عہدوں کی تجدید کا نہایت لطیف موقع ہوگا لیکن مشکل یہ ہے کہ ہندوستان میں جلسے اچھی طرح صرف اتوار کے روز ہی ہو سکتے ہیں اور دوسرے دنوں میں بوجہ تعطیل نہ ہونے کے عمدگی سے نہیں ہو سکتے۔اُس وقت سواری میں میرے ساتھ برادرم سید محمود اللہ شاہ صاحب تھے میں نے انہیں کہا کہ حساب لگاؤ۔۲۶۔مئی کو کونسا دن ہوگا ، میرا دل کہتا ہے کہ اتوار ہی ہو گا۔انہوں نے حساب لگایا تو حساب میں کوئی غلطی ہو گئی اور انہوں نے کہا کہ نہیں یہ دن اتوار کا نہیں ہوگا۔مگر میں نے کہا کہ نہیں ، پھر حساب لگائیں میرا دل گواہی دیتا ہے کہ وہ دن ضرور اتوار کا ہو گا۔چنانچہ پھر جب انہوں نے حساب لگایا تو ۲۶۔مئی کو اتوار ہی تھا اور تحریک کے اعلان کے چھ ماہ بعد پہلا اتوار کا دن آتا تھا پس میں نے سمجھا کہ یہ خیال الہی تصرف کے ماتحت تھا اور اللہ تعالیٰ نے بغیر اس کے کہ ہم کسی بدعت کے مرتکب ہوں یا ایسی رسم کے مرتکب ہوں جس کی