انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 129 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 129

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت دیتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں جب وہ مجھ سے پوچھیں کہ ہم کیسی چیز لائیں اور میں کہوں اس اس قسم کی چیز لائیں تو ان پر چٹی پڑ جائے گی اور خواہ مخواہ وہ چیز انہیں لانی پڑے گی۔تو پوچھنے کے باوجود میں دوستوں کو نہیں بتا تا کہ وہ کیسی چیز لا ئیں۔ایک دفعہ ایک دوست میرے پیچھے پڑ گئے کہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی موٹر کیلئے جن چیزوں کی ضرورت ہوا کرے میں مفت مہیا کیا کروں۔میں نے بہت رڈ کیا لیکن وہ اپنے اصرار میں بڑھتے گئے۔آخر ان کے اصرار سے مجبور ہو کر میں نے کہا کہ اچھا میں آپ کو چیزوں کا آرڈر بھجوا دیا کروں گا۔آپ چاہیں تو مفت دے سکتے ہیں ، چاہیں تو قیمت وصول کیا کریں۔وہ دوست مجھے موٹر کے متعلق اشیاء مہیا کر دیتے ہیں۔لیکن باوجود اس کے کہ ان کے شدید اصرار پر میں نے آرڈر بھجوانا منظور کیا تھا اور وہ پھر اپنی طرف سے بطور تحفہ چیزیں بھجوا دیتے ہیں لیکن میرے دل پر اب بھی اس کا بوجھ ہی رہتا ہے اور میں کوشش کرتا ہوں کہ جس قیمت کو وہ روپیہ کی شکل میں نہیں لیتے دعاؤں کی صورت میں ادا کر دوں۔اس کے سوا میری زندگی میں اور کوئی واقعہ نہیں کہ کسی کے کہنے پر بھی میں نے کوئی چیز طلب کی ہو۔پس جو دوست اس تحریک میں حصہ لینا چاہتے ہیں، وہ محض خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے حصہ لیں نہ کہ میری ذات کیلئے اور میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس تحریک میں ہندوستان کے اُردو بولنے والے علاقہ کا وہی شخص حصہ لے سکتا ہے جو پندرہ جنوری تک اپنا وعدہ لکھوا دے۔اس کے بعد اگر کسی شخص نے وعدہ کیا یا روپیہ بھیجا تو اس کا وعدہ اور روپیہ رڈ کر دیا جائے گا۔بعض جماعتوں کے پریذیڈنٹ اور سیکرٹری بہت سست ہوتے ہیں اور وہ اپنی جماعت کے افراد کو یہ کہہ کر تسلی دیتے رہتے ہیں کہ چندہ لکھا دیا جائے گا۔انہیں یہ مشکل نظر آتی ہے کہ اگر باقی لوگوں کی طرف سے چندہ کا وعدہ لکھا گیا تو انہیں بھی وعدہ کرنا پڑے گا اور اس طرح پریذیڈنٹ یا سیکرٹری کی غفلت کی وجہ سے وقت گزر جاتا ہے اور باقی لوگ بھی ثواب سے محروم رہتے ہیں۔پس میں تمام دوستوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہندوستان کے لوگوں کیلئے آخری تاریخ پندرہ جنوری ہے۔اس کے بعد کا کوئی وعدہ ہندوستان والوں کی طرف سے قبول نہیں کیا جائے گا۔دوستوں کو چاہئے کہ ہر ایک تک میرا وہ خطبہ پہنچا د میں جو میں نے تحریک جدید کے متعلق پڑھا تھا اور کسی پر اصرار نہ کریں کہ وہ ضرور وعدہ لکھوائے اور نہ یہ اصرار کریں کہ زیادہ لکھوائے۔اگر کوئی شخص سو روپیہ چندہ دے سکتا ہے لیکن وہ پچاس روپے دیتا ہے تو اس سے