انوارالعلوم (جلد 14) — Page 130
انوار العلوم جلد ۱۴ - تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت زیادتی کا مطالبہ نہ کریں اور اگر کوئی وعدہ نہیں کرتا تو اس پر اصرار نہ کریں۔تمہارا کام صرف یہ ہے کہ لوگوں تک خبر پہنچا دو کہ اس قسم کی تحریک ہوئی ہے اس کے بعد جو شخص وعد ہ لکھا نا چاہے اس کی طرف سے خط لکھوا کر بھجوا دیں اور جو زیادہ نہیں دے سکتا وہ کم سے کم پانچ روپیہ دے اور جو پانچ روپے بھی نہیں دے سکتے ، ان سے میری یہ خواہش ہے کہ وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس تحریک کو با برکت کرے اور اس کے مفید اور خوشکن نتائج جلد سے جلد پیدا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ مجھے اس بات کا فکر نہیں کہ روپیہ کہاں سے آئے گا مجھے یہ فکر ہے کہ دیانت اور امانت سے کام لینے والے کارکن میسر آتے رہیں اور ایسے لوگ سلسلہ کو ملیں جو ایک پیسہ بھی ضائع کرنے والے نہ ہوں گے۔پس جو لوگ تحریک جدید کے کسی چندہ میں حصہ نہیں لے سکتے وہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس تحریک میں کام کرنے والوں کو ایسی توفیق عطا فرمائے کہ سلسلہ کا ایک پیسہ بھی ضائع نہ ہو اور ان کے کام نہایت اعلیٰ نتائج پیدا کرنے والے ہوں۔میں ہمیشہ دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس تحریک کو بابرکت کرے اور تمام کام کرنے والوں کو اخلاص اور دیانت وامانت سے کام لینے کی توفیق دے اور میں اپنے دوستوں سے بھی امید کرتا ہوں کہ وہ یہ دعا کرتے رہا کریں۔اب میں اس تحریک کی بعض دوسری باتوں کو لیتا ہوں۔میں نے جماعت کو سادہ زندگی اختیار کرنے کو کہا ہے اور سادہ زندگی بسر کرنا فرض نہیں نفلی ہے۔یعنی جو چاہے اختیار کرے اور جو چاہے نہ کرے۔مگر میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس کے بغیر جماعت میں قربانی کا صحیح مادہ کسی صورت میں پیدا نہیں ہوسکتا اور نہ روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل ہوسکتا ہے۔اور اگرتم سمجھو کہ اس کے بغیر تم روحانیت کا مقام حاصل کر لو گے تو یہ نفس کو دھوکا دینے والی بات ہے۔بے شک یہ نفلی قربانی ہے مگر بعض نظلی قربانیاں بھی بہت بڑی اہمیت رکھتی ہیں۔جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔نوافل کے ذریعہ ہی خدا تعالیٰ کا قرب حاصل ہو سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ جو شخص سادہ زندگی اختیار نہیں کرتا وہ احمدی نہیں مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ وہ علی شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ ہے بالکل ممکن ہے، اس کا ایمان ضائع ہو جائے۔ممکن ہے اس کا ایمان ایسا مضبوط ہو کہ اسے کوئی ٹھوکر نہ لگے۔مگر یہ ممکن بہت شاذ ہے اور اس کے ایمان کی سلامتی کی بہت کم امید ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں سادہ زندگی اختیار نہ کرنے کے نتیجہ میں نہ وہ اخوت پیدا ہو گی جس سے روحانی سلسلے ترقی کیا کرتے ہیں اور نہ غربت و امارت کا امتیاز