انوارالعلوم (جلد 14) — Page 128
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت آدمی لائے گا جن کے دلوں میں الہا ماً وہ یہ تحریک پیدا کرے گا کہ جاؤ اور چندے دواس لئے مجھے کوئی گھبراہٹ نہیں بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت کا ایمان بڑھ جائے تو موجودہ چندوں سے چار گنے زیادہ چندے وہ دے سکتی ہے۔اور اگر آپ سب لوگ ایماندار بن کر ایمان کے ایک خاص مقام پر پہنچ جائیں تو موجودہ چندوں سے چار گنے کیا، اس سے بھی زیادہ دے سکتے ہیں۔پس جہاں میں یہ تاکید کرتا ہوں کہ انجمن کے چندوں پر تحریک جدید کے چندہ کا کوئی اثر نہ پڑے، بلکہ اس کے بقائے بھی ادا کئے جائیں وہاں تحریک جدید کے چندہ کیلئے بھی کہتا ہوں۔پچھلے دنوں صدرانجمن کے چندوں میں اس قد رکھی ہو گئی کہ جلسہ سالانہ کی تیاری کیلئے سامان تک بر وقت خریدا نہ جاسکا بلکہ ایک واقعہ کا مجھے سخت دکھ ہے۔ہمارے ایک مبلغ کالڑ کا فوت ہو گیا۔چونکہ تین تین ماہ تک کی کارکنوں کو تنخواہیں نہیں ملیں اس لئے لڑکے کی والدہ اس کے فوت ہونے سے تین دن پہلے پانچ روپیہ قرض لینے کیلئے میرے پاس آئی۔مگر اتفاقا میرے پاس بھی اُس وقت روپے نہیں تھے ، وہ خالی چلی گئی۔دوسرے دن گوا سے روپے میں نے بھجوا دیئے مگر میرے دل پر اس کا نہایت ہی گہرا اثر ہے کہ بعض دفعہ جماعت کی غفلتیں کس قدر درد ناک نتائج پیدا کر دیا کرتی ہیں۔پس ایک طرف تو میں بقایوں کی ادائیگی اور مستقل چندوں میں حصہ لینے کی طرف احباب کو توجہ دلاتا ہوں اور دوسری طرف تحریک جدید میں حصہ لینے کی نصیحت کرتا ہوں۔یہ نفلی چندہ ہے اور ہر شخص کی مرضی پر منحصر ہے۔پس جو دے سکتا ہے دے اور اپنے ایمان کی خاطر دے، مجھ پر اس کا کوئی احسان نہیں۔میں تو وہ انسان ہوں کہ بچپن میں اپنی ذاتی ضرورت کیلئے میں نے کبھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی کچھ نہیں مانگا۔برمی مجھے جب کوئی ضرورت پیش آتی ، میں خاموش ہو جایا کرتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام سمجھ جاتے کہ اسے کوئی ضرورت ہے۔چنانچہ آپ ہماری والدہ صاحبہ سے کہتے کہ اس کو کوئی ضرورت معلوم ہوتی ہے، پتہ لو یہ کیا چاہتا ہے۔پس جن سے مانگنے کا مجھے حق تھا، میں نے تو ان سے بھی کبھی نہیں مانگا گجا یہ کہ آپ لوگوں سے اپنے لئے مانگوں۔بعض مخلص احباب مجھ سے اکثر دریافت کرتے رہتے ہیں کہ آپ کیلئے ہم کیا تحفہ لائیں۔میں خاموش رہتا ہوں اور کچھ نہیں کہتا۔بعض بار بار پوچھتے ہیں کہ ہم فلاں چیز لانا چاہتے ہیں کیسی لائیں؟ تو بھی میں جواب نہیں