انوارالعلوم (جلد 14) — Page 506
انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر جو پچیس روپے سالانہ اخبارات خریدنے کیلئے خرچ کر سکتے ہیں اگر ان کو ملا لیا جائے تو الفضل کی کم از کم خریداری پانچ ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔پھر اس سے اتر کر وہ لوگ ہوں گے جو پانچ دس روپے سالانہ خرچ کر سکتے ہیں ایسے لوگ دوسرے رسائل کی خریداری کی طرف توجہ کریں تو ان میں سے ہر رسالہ کا پانچ پانچ چھ چھ ہزار خریدار ہوسکتا ہے۔پس میں دوستوں کو اس طرف خصوصیت سے توجہ دلاتا ہوں۔انہیں اس غلط فہمی میں مبتلاء نہیں ہونا چاہئے کہ میں الفضل کی تائید کیلئے کہہ رہا ہوں بلکہ میں یہ بات اس لئے کہہ رہا ہوں کہ تا آپ لوگوں کے ایمان مضبوط ہوں۔مخالف جب بھی حملہ کرتا ہے اس لئے کرتا ہے کہ وہ سمجھتا ہے میں بعض لوگوں کو ورغلائوں گا کیونکہ وہ سلسلہ کی تعلیم سے پوری طرح واقف نہیں لیکن اگر جماعت پوری طرح سلسلہ سے وابستہ ہو اور جماعت کے عقائد اور تعلیمات سے اُسے واقفیت ہو تو وہ حملہ کی جرات نہیں کر سکتا۔پس سلسلہ سے وابستگی کیلئے بھی اخبارات کی خریداری ضروری ہے تا ایسا نہ ہو کہ کوئی بھیٹر یا حملہ کر کے کسی بھیٹر کو لے جائے۔میں امید کرتا ہوں کہ جماعتوں کے سیکرٹری اپنی اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اولین کوشش یہ کریں گے کہ اخبار کے خریداروں میں اضافہ ہو تاکہ الفضل بغیر کسی تکلیف کے چل سکے لیکن اس کے ساتھ میں اخبار والوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ پیشگی قیمت لئے بغیر وہ کسی کے نام اخبار جاری نہ کیا کریں کیونکہ بعض لوگ اخبار تو وصول کرتے چلے جاتے ہیں مگر بعد میں قیمت نہیں دیتے۔اور اس طرح اخبار والوں کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔پس آئندہ کیلئے تمام اخبارات والوں کو یہ امرا چھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ جس اخبار کا خریداروں کے نام بقایا ہوگا اس سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں اور میں سمجھتا ہوں اگر اس بات کی عادت ڈال لی جائے کہ بغیر پیشگی قیمت لئے کسی کے نام اخبار جاری نہیں کرنا تو تھوڑے ہی دنوں میں لوگوں کو بھی پیشگی قیمت دینے کی عادت ہو سکتی ہے۔میں نے جب الفضل جاری کیا تو اُس وقت مفتی محمد صادق صاحب اور قاضی اکمل صاحب جو اخبارات کا پرانا تجربہ رکھتے تھے مجھ پر زور دیتے تھے کہ اگر ایسا کیا گیا تو اخبار نہیں چل سکے گا مگر میں نے کہا میں تو اُس کے نام اخبار جاری کروں گا جو پیشگی قیمت دے گا اور اگر اس کے نتیجہ میں اخبار بند ہوتا ہے تو بہتر ہے کہ کل بند ہونے کی بجائے آج ہی بند ہو جائے۔مگر چونکہ میں ایک عزم کے ساتھ اس پر قائم ہو گیا اس لئے میں نے دیکھا کہ لوگ پیشگی قیمت دے کر الفضل کے خریدار بنتے تھے حتی کہ بعض ہندو اور غیر احمدی بھی اس کے خریدار تھے بلکہ ایک انگریز بھی اُس