انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 505 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 505

انوار العلوم جلد ۱۴ مصری صاحب کے خلافت سے انحراف کے متعلق تقریر دلا چکا ہوں مگر معلوم ہوتا ہے دوست میرے الفاظ کو رسمی سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ میں اخبار کی امداد کا اعلان کر رہا ہوں حالانکہ میں اخبار کے فائدہ کیلئے نہیں بلکہ آپ لوگوں کے ایمانوں اور آپ کی نسلوں کے ایمانوں اور آپ کے ہمسایوں کے ایمانوں کے فائدے کیلئے کہہ رہا ہوں کہ آپ لوگ اخبارات خریدیں اور جو لوگ نہیں پڑھ سکتے وہ بھی اخبار خرید کر اپنے غیر احمدی ہمسایوں اور دوستوں کو دیا کریں تا کہ وہ پڑھیں اور سلسلہ کے قریب ہو جائیں۔ہاں ایک طبقہ ایسا بھی ہوتا ہے جو مفت خور ہوتا ہے وہ لوگ اخبار نہایت باقاعدگی سے پڑھتے ہیں مگر اس طرح نہیں کہ خود خریدیں اور پڑھیں بلکہ اس طرح کہ دوسروں سے اخبار لیتے اور پڑھ کر واپس کر دیتے ہیں۔وہ پہلے یہ پتہ لگاتے ہیں کہ اخبار کس کے نام آتا ہے اور پھر ہر شام کو وہاں پہنچ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کیوں صاحب! الفضل آیا؟ چنانچہ وہ ان سے الفضل لیتے اور دو دو تین تین دن کے بعد واپس کرتے ہیں حتی کہ بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ اس قسم کے مفت خورے ہمیں بھی اخبار پڑھنے نہیں دیتے جو نہی اخبار پہنچتا ہے وہ آ موجود ہوتے ہیں اور پھر اخبار فوراً گھر لے جاتے ہیں اور اپنی بیوی اور بچوں کو پڑھاتے ہیں اور جو شخص اپنی گرہ سے قیمت خرچ کر کے اخبار خریدتا ہے اسے بعض دفعہ تیسرے اور بعض دفعہ چوتھے دن اخبار ملتا ہے۔گویا اُن کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کہتے ہیں کوئی شخص ریل میں بیٹھا عینک لگائے اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا کہ ایک اور شخص جو مفت خورہ تھا کہنے لگا ذرا عینک تو دکھائیے۔اُس نے عینک دکھائی تو اُس نے جھٹ آنکھوں پر لگائی اور پھر تھوڑی دیر کے بعد جب دیکھا کہ وہ ٹینک کے انتظار میں اخبار چھوڑے بیٹھا ہے تو کہنے لگا اوہو! آپ عینک کے بغیر نہیں پڑھ سکتے لائیے اتنی دیر میں ہی اخبار پڑھ لوں۔تو یہ بہت ہی غلط طریق ہے جو لوگوں میں رائج ہے۔دوستوں کو چاہئے کہ وہ حتی الوسع قربانی کر کے بھی اخبار میں خریدیں۔یہ ان کا اخبار والوں پر احسان ہوگا۔میرے نزدیک وہ شخص جس کی ڈیڑھ دوسو یا اڑھائی سو روپیہ تنخواہ ہو اس کی یہ نہایت ادنیٰ قربانی ہے کہ وہ تمیں پینتیس روپے سالانہ اخبارات پر خرچ کرے بلکہ میرے نزدیک تو اس کا نام قربانی رکھنا بھی قابل شرم بات ہے اور ایسا طبقہ جو میں پینتیس روپے سالانہ اخبارات پر خرچ کر سکتا ہے ہماری جماعت میں کم سے کم اڑھائی تین ہزار ہے گویا اڑھائی تین ہزار یقیناً ایسے لوگ ہماری جماعت میں موجود ہیں جو الفضل کو جو سلسلہ کا ڈیلی اخبار ہے خرید سکتے ہیں۔پس اگر ایسے لوگ الفضل کی طرف توجہ کریں تو اس کی خریداری محض اس طبقہ کی وجہ سے اڑھائی تین ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔پھر وہ لوگ